نامعلوم منزل کی طرف سفر۔ نومبر 1984 میں مجھے ایک انوکھے قسم کا دعوت نامہ ملا۔ یہ دعوت نامہ بظاہر ایک کانفرنس کی طرف سے تھا، لیکن اس میں ضروری تفصیلات موجود نہ تھیں۔ مجھ کو جو چیز ملی وہ صرف فرسٹ کلاس کا ایک ریٹرن ٹکٹ تھا۔
اس پر لکھا ہوا تھا: ڈلی، کیاسپ لانکا، ڈلی۔ جب یہ ہوائی ٹکٹ مجھ کو ملا، اس وقت کیاسپ لانکا، یعنی موراکو، میرے لیے ایک غیر معروف نام تھا۔ میں کیاسپ لانکا کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ میں اس سفر کے بارے میں سخت متردد تھا، لیکن جب تاریخ آئی تو میں بادلِ ناخواستہ دہلی ایئرپورٹ گیا اور ڈرتے ہوئے ہوائی جہاز کے اندر بیٹھ گیا۔
ہوائی جہاز بلند ہو کر فضا میں اڑنے لگا۔ میرے دل میں عجیب و غریب قسم کے خیالات آ رہے تھے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ جہاز مجھ کو کہاں پہنچائے گا، اور وہاں سے پھر میں کہاں جاؤں گا۔ ہوائی جہاز پرواز کرتا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ اناؤنسر نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا جہاز جلد ہی کیاسپ لانکا کے ایئرپورٹ پر اترنے والا ہے۔
تمام مسافر ایک ایک کر کے جہاز سے اتر گئے۔ آخر میں میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ہوائی جہاز کے باہر آیا۔ اس وقت میرا عجیب حال تھا۔ ایئرپورٹ پر کوئی مجھ کو ریسیو کرنے والا موجود نہ تھا۔
بقیہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرسالہ، جنوری 1985، صفحہ 30 تا 31۔ یہ واقعہ مجھ کو اکثر یاد آتا رہتا ہے۔ مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ میں ایک غیر مری جہاز پر بیٹھا ہوں، اور وہ جہاز مجھ کو لیے ہوئے تیزی سے آخرت کی دنیا کی طرف مسلسل چلا جا رہا ہے۔ اچانک وہ وقت آئے گا جب کہ یہ اعلان کیا جائے گا کہ ہمارا جہاز آخرت کے ایئرپورٹ پر اتر گیا۔
مسافر ہوائی جہاز سے نکل کر باہر چلے جائیں۔ جب میں باہر آؤں گا تو وہاں ایک بالکل اجنبی دنیا ہوگی، جہاں نہ کوئی ساتھی ہوگا اور نہ کوئی سامان۔ اپنے لوگوں میں سے کوئی وہاں موجود نہ ہوگا جو میرا استقبال کرے۔ کیسا عجیب وقت آنے والا ہے، میرے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 543۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.