سب سے بڑی غلط فہمی: موجودہ دنیا میں آدمی کو ضرورت کی تمام چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ہر شخص کو غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے۔ ہر آدمی سمجھتا ہے کہ یہ چیزیں اس کا حق ہیں، اور وہ ہمیشہ اسی طرح اس کو حاصل رہیں گی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں آدمی کو صرف عارضی طور پر امتحان کے لیے دی گئی ہیں۔
امتحان کی مقرر مدت تک وہ اس کو حاصل رہیں گی، اور اس کے بعد اچانک وہ ان سے چھن جائیں گی۔ موت ختمِ مدت کا یہی لمحہ ہے۔ موت کے بعد انسان اسی طرح باقی رہے گا، مگر چیزیں سب کی سب اس سے چھن چکی ہوں گی۔ انسان ایک محتاج مخلوق ہے۔
اس کو اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بہت سی چیزیں درکار ہیں۔ یہ تمام چیزیں پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دے دی ہیں، مگر قبل از موت دورِ حیات اور بعد از موت دورِ حیات میں ایک فرق ہے۔ قبل از موت دورِ حیات میں یہ چیزیں عمومی تقسیم، یعنی جنرل ڈسٹریبیوٹڈ، جنرل ڈسٹریبیوشن کے طور پر سب کو ملی ہوئی ہیں۔ لیکن بعد از موت دورِ حیات میں یہ صورتحال بدل جائے گی۔
اس وقت انتخابی تقسیم، یعنی سلیکٹیو ڈسٹریبیوشن کا اصول رائج ہو جائے گا، اور پھر کوئی پائے گا اور کوئی مکمل طور پر محروم رہے گا۔ موت اسی سنگین واقعے کے لیے ایک یاد دہانی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں روزانہ 100000 سے زیادہ لوگ مر جاتے ہیں۔ یہ مرنے والے لوگ خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم زندگی کے پہلے دور سے نکل کر دوسرے دور میں جا رہے ہیں۔
تمہارے اوپر بھی لازماً یہ وقت آنے والا ہے۔ ہم اپنا موقع کھو چکے۔ تم ہوشیار ہو جاؤ، اور ہماری طرح کھونے والے مت بنو۔ ہم اب لوٹ کر دوبارہ اس دنیا میں نہیں آ سکتے۔
تمہارے اوپر بھی ایک دن وہ لمحہ آئے گا جب کہ تم موجودہ ملے ہوئے موقع کو پوری طرح کھو دو گے۔ اس حقیقت کو جانو، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بناؤ۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 542۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.