موت کا بھونچال۔ دروازے پر دستک ہوئی، کوئی صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ دستک کی آواز سن کر اچانک مجھے خیال آیا کہ اسی طرح ایک دن موت کا فرشتہ یہاں آ جائے گا۔ موت کا فرشتہ جب آئے گا تو اس کو دستک دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، حتیٰ کہ اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہوگا کہ گھر کا دروازہ کھلے اور اس کے بعد وہ اندر داخل ہو۔
موت کے فرشتے کو نہ صاحبِ خانہ سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی، اور نہ کسی کی رکاوٹ اس کے لیے روک ثابت ہوگی۔ وہ ایک طرفہ فیصلے کے تحت اچانک آدمی کے پاس پہنچ جائے گا، اور اس کی روح قبض کر کے چلا جائے گا۔ موجودہ دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جو مکمل طور پر بلا اطلاع آتی ہیں، ان کو نہ ہم روک سکتے ہیں اور نہ ان کی آمد کو پیشگی طور پر جان سکتے ہیں۔ یہ دو چیزیں ہیں: موت اور بھونچال۔
بھونچال زمین کے اوپر آتا ہے، اور موت انسان کے اوپر آتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موت بھونچال سے زیادہ خطرناک ہے۔ بھونچال بے روح مادے کے اوپر آتا ہے، لیکن موت زندہ انسان کے اوپر آتی ہے۔ بھونچال کی تباہی آج یعنی today کی نسبت سے ہوتی ہے، اور موت کی تباہی کل یعنی tomorrow کی نسبت سے۔
موت کا سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ موت کے بعد آدمی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوتی ہے جس کو وہ مکمل طور پر چھوڑ چکا، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوتی ہے جہاں وہ بالکل اکیلا ہوتا ہے اور کامل طور پر بے سر و سامان بھی۔ حدیث میں آیا ہے: "القيّس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت" ۔
الترمذی، کتاب القیامہ۔ یعنی عقلمند وہ ہے جو دنیا کے معاملے میں اپنے نفس پر قابو رکھے اور موت کے بعد کے معاملے کو اپنے عمل کا نشانہ بنائے۔ موت آدمی کے لیے اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ موت زندگی کے لیے سب سے بڑے معلم کی حیثیت رکھتی ہے۔
جو آدمی موت سے یہ سبق لے سکے، اس کا پورا رویہ درست ہو جائے گا۔ وہ ہر معاملے میں آخری حد تک محتاط بن جائے گا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 541۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.