موت کا استہزار ایک حدیث کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "موتُوا قبل أن تموتوا" حاشیۃ السندی: علی ابن ماجہ، رقم الحدیث 122۔ یعنی موت سے پہلے مر جاؤ۔ اس حدیث میں وہی بات کہی گئی ہے جو ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے: "أكثروا ذكر هادم اللذات الموت" الترمذی، کتاب الزہد. یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔
موت کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے: موت کے زندہ استہزار میں جینا۔ موت کا زندہ استہزار کوئی سادہ بات نہیں۔ کیرم بوٹ کی اصطلاح کے مطابق یہ ایک ماسٹر اسٹروک ہے: موت کا زندہ استہزار آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے، وہ اس کے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اگر آپ کی پیدائش 10 جولائی کو ہوئی ہے تو یہ سوچیے کہ 10 جولائی سے پہلے میرا کوئی وجود نہ تھا۔
جلد ہی جب موت آئے گی تو اس کے بعد بھی موجودہ دنیا میں میرا کوئی وجود نہ ہوگا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو دھیان میں رکھے تو یہی ایک چیز اس کی پوری زندگی کی اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی زندہ یاد کسی انسان کے لیے ایک دھماکے سے کم نہیں۔ موت کی زندہ یاد آدمی سے انا، یعنی ایگو کے جذبے کو چھین لیتی ہے۔
موت کی زندہ یاد برتری کے احساس کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت کی زندہ یاد غصہ، حسد، اور انتقام جیسے منفی جذبات کو مٹا دیتی ہے۔ موت کی زندہ یاد آدمی کے اندر سے حرص کو اس طرح ختم کر دیتی ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ موت کی زندہ یاد آدمی کو محاسبے کی سوچ میں جینے والا بنا دیتی ہے۔
اور جو آدمی محاسبے کی سوچ میں جینے لگے، اس کو غلط کام میں ملوث ہونا ایسا ہی معلوم ہوگا جیسے کہ جلتی ہوئی آگ میں کودنا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 538۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.