بڑھاپے کی عمر؟ قرآن کی سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «وَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ». سورہ نمبر 34، آیت 37۔ یعنی: کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ جو شخص یاد دہانی حاصل کرنا چاہے، وہ اس میں یاد دہانی حاصل کر سکے؟
اس مفہوم کی متعدد روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ملاحظہ ہو: صحیح البخاری 6419 حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کو لمبی عمر یا بڑھاپے کی عمر ملے، اس کے پاس اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ آدمی کے اوپر پہلے بچپن کا دور آتا ہے، اس کے بعد جوانی کا دور آتا ہے، اس کے بعد بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ بڑھاپے کا دور موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آخری دور ہے، کیونکہ اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے وہ موت کا مرحلہ ہے، نہ کہ کوئی اور مرحلہ۔
اس اعتبار سے بڑھاپا گویا کہ موت کی پیشگی اطلاع، یعنی prior notice ہے۔ بڑھاپے میں جسم کے تمام اعضاء، یعنی organs، کمزور ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اعضاء اپنا کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا وقت قریب آ گیا۔ وہ گویا کہ موت کی جبری یاد دہانی، یعنی compulsory reminder ہیں۔
بڑھاپا آدمی کو قبر کے کنارے کھڑا کر دیتا ہے۔ اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر وہ سوچنے لگے گا کہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ میری موت واقع ہو، اور میں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر کر دیا جاؤں۔ اس طرح بڑھاپے کے تجربات آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کو آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں تمہارا سفر اب ختم ہو چکا، اب تمہیں لازماً اگلے دورِ حیات میں داخل ہونا ہے، اور حشر کی خدائی عدالت کا سامنا کرنا ہے۔
بلاشبہ وہ انسان سب سے زیادہ بدبخت انسان ہے جس کو بڑھاپے کا زمانہ ملا، لیکن وہ اس سے یاد دہانی حاصل نہ کر سکا۔ وہ بدستور غفلت میں رہا، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر گیا۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 532۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.