کامل محرومی۔ قرآن کی سورہ آل عمران میں موت کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» سورہ نمبر 3، آیت 185۔ یعنی ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ آیت ہر انسان کے لیے ایک سنگین انتباہ، یعنی وارننگ، کی حیثیت رکھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موت کسی آدمی کے لیے کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ موت کا مطلب ایک قسم کی دنیا سے نکل کر دوسری قسم کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ «سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ» سورہ نمبر 45، آیت 13 کا معاملہ کیا گیا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں اچانک اس کے ساتھ «حَرَّمَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ» کا معاملہ پیش آ جائے گا۔
موجودہ دنیا میں انسان کو بظاہر سب کچھ ملا ہوا ہے، لیکن موت کے بعد کی دنیا میں برعکس طور پر وہ پائے گا کہ وہ تمام چیزوں سے کلی طور پر محروم ہو چکا ہے۔ اس کی فیملی، اس کا سامانِ حیات، اس کے اعوان و انصار، غرض زمین سے آسمان تک کی ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ اسی طرح کا ایک شدید تر واقعہ ہوگا، جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ یہ انسانی زندگی کا سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے، جس کے بارے میں ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ سوچنا چاہیے۔
ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کے مطابق سوچے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا اصل مدار سمجھے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی سوچ کو لے کر رات کو سوئے، اور وہ اسی سوچ کو لے کر صبح کو جاگے۔
ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنا لے۔ ہر ایک کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو لے کر جیے، اور اسی حقیقت کو لے کر اس کی موت آئے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اسی حقیقت کو اپنا سب سے بڑا کنسرن، یعنی سپریم کنسرن، بنا لے۔ جو لوگ اس حقیقت کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنا لیں، وہی موجودہ دنیا میں صحیح زندگی گزاریں گے، اور وہی موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 533۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.