Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ki yaad

Urdu · 3 min

موت کی یاد۔ قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» سورہ نمبر 3، آیت 185۔ یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ موت کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ الَّذَّابِ الْمَوْتِ» الترمذی، رحمہ اللہ، حدیث 2307۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، موت لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو مبنی بر خواہش سوچ کو ڈھانے والی ہے، اور مبنی بر حقیقت سوچ کو پیدا کرنے والی ہے۔ Remember death much; it demolishes desire-based thinking and produces reality-based thinking.

لذت یعنی pleasure کو وسیع معنی میں لیا جائے تو اس میں انسان کی تمام سرگرمیاں شامل ہو جاتی ہیں۔ ہر کام جو آدمی کرتا ہے وہ اسی لیے کرتا ہے کہ اس میں کہیں نہ کہیں اس کو لذت مل رہی ہوتی ہے۔ معلوم مادی لذتوں یعنی material pleasures کے علاوہ، وہ تمام چیزیں بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو بظاہر غیر مادی نظر آتی ہیں، مثلاً عزت، شہرت، اقتدار، اسٹیج، سماجی رتبہ، مقبولیت، عوامی استقبال وغیرہ۔ غرض تمام مادی اور غیر مادی چیزیں اس فہرستِ لذت میں شامل ہیں۔

اگر لذت نہ ملے تو آدمی کوئی کام نہیں کرے گا۔ اس طرح موت کا احساس آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کو اپنا ہدف یعنی goal نہیں بنا سکتا جو آج ملے اور کل کے دن وہ مکمل طور پر اس سے چھن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی حیثیت، کسی عورت یا مرد کے لیے، سب سے بڑے معلم یعنی teacher کی ہے۔

موت کا تصور آدمی کے اندر انقلاب پیدا کر دینے والا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 531۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.