Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Pandra billion saala mansuba

Urdu · 11 min

15 بلین سالہ منصوبہ۔ سائنٹیفک اکاؤنٹ کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے، خالق کے حکم سے خلا یعنی اسپیس میں ایک بڑا کاسمک بال وجود میں آیا۔ اس میں وہ تمام اجزاء، یعنی پارٹیکلز، موجود تھے جو آج ہماری کائنات کا حصہ ہیں۔ خالق کے حکم سے اس عظیم گولے میں ایک انفجار، یعنی ایکسپلوژن، ہوا۔

اس انفجار کو عام طور پر بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ کاسمک بال میں انفجار کے بعد، اس کے تمام اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے۔ اس کے بعد خالق کے پلان کے مطابق، وہ مختلف صورتوں میں مجتمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان ذرات کے اجتماع سے ان گنت ستارے بنے، کہکشائیں بنیں، ڈارک میٹر بنا، سولر سسٹم بنا۔

اس طرح بتدریج وہ پوری دنیا وجود میں آئی جس کو ہم کائنات یعنی یونیورس کہتے ہیں۔ اس کے بعد خالق نے سیارہ زمین یعنی پلانٹ ارتھ کو اپنے خصوصی پلان کو بروئے کار لانے کے لیے منتخب کیا۔ لمبی مدت کے عمل کے بعد، سیارہ زمین ٹھنڈا ہوا۔ خالق کے حکم سے یہاں پانی بنا، بارشیں ہوئیں، اور دریا اور سمندر وجود میں آئے۔

سیارہ زمین کا تقریباً تین چوتھائی حصہ پانی سے بھر گیا۔ اس کے بعد خالق کے منصوبے کے مطابق، سیارہ زمین پر سبزہ اگا، اور زمین کے خشکی کا حصہ ہرے بھرے درختوں اور جنگلوں سے بھر گیا۔ اس کے بعد زمین پر خالق کے خصوصی پلان کے مطابق، اس کا اگلا حصہ ظہور میں آیا، یعنی حیوانات کی دنیا وجود میں آئی۔ بے شمار قسم کے جانور، مچھلیاں، چڑیاں، چوپائے، اور طرح طرح کی ذی حیات اشیاء سے زمین بھر گئی۔

خالق کے منصوبے کے مطابق، اس کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہاں انسان کو پیدا کر کے سیارہ زمین پر اس کو بسایا جائے۔ چنانچہ انسان اول کے طور پر آدم اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا گیا۔ پھر اس پہلے جوڑے سے انسانی نسل چلی، یہاں تک کہ زمین کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہو گئیں۔ اس کے بعد خدا کے منصوبے کا ایک اور حصہ ظہور میں آیا۔

یہ پیغمبروں کا پیدا ہونا تھا۔ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے درمیان، خالق نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ تمام پیغمبر انسان تھے۔ خالق نے ان کو خصوصی طور پر اس لیے بھیجا کہ وہ انسانوں کو ان کی قابلِ فہم، یعنی انڈرسٹینڈ ایبل، زبان میں یہ بتائیں کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان، یعنی کریشن پلان، کیا ہے۔

پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ لمبی مدت تک چلتا رہا۔ پہلے انسان آدم خود بھی ایک پیغمبر تھے۔ اس کے بعد ہر نسل میں پیغمبر آتے رہے، مثلاً حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اور آخر میں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پیغمبروں کے ذریعے خدا نے ہر نسل کے انسانوں کو بتایا کہ موجودہ دنیا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنائی گئی ہے۔

انسان کی آباد کاری کی اصل اور ابدی جگہ تو جنت ہے۔ جنت ابدی بھی ہے اور ہر اعتبار سے آئیڈیل بھی۔ مگر جنت میں داخلہ صرف انتخابی بنیاد، یعنی سلیکٹو بیسس، پر ہوگا۔ موجودہ دنیا میں خالق کی طرف سے غیر مرئی، یعنی انویزیبل، ریکارڈنگ کا نظام عالمی پیمانے پر قائم کیا گیا ہے۔

اس نظام کے تحت ہر عورت اور ہر مرد کے قول و عمل کا مسلسل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ریکارڈ قیامت کے دن سامنے آئے گا۔ یہ ریکارڈ قیامت کے دن سامنے آ جائے گا۔ پھر لوگوں کے اعمال کے ریکارڈ کے مطابق ان افراد کو منتخب کیا جائے گا جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کی کامل دنیا میں بسائے جانے کے اہل ثابت ہوں گے۔

بقیہ لوگوں کو چھانٹ کر انہی کائنات کے کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، تاکہ وہ ابدی طور پر محرومی اور حسرت کے عذاب کو بھگتتے رہیں۔ خالق نے چاہا کہ وہ کچھ منتخب لوگوں کو اپنے اس خصوصی انعام سے نوازے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں، ہر قسم کی لذت اور مسرت کے ماحول میں، ابدی طور پر آباد رہیں اور اپنی ہستی کے کامل فلفلمنٹ کا تجربہ کریں۔ یہ خالق کی خصوصی طور پر دی ہوئی ایک انوکھی رحمت ہوگی، جو صرف منتخب قسم کے کچھ خوش قسمت لوگوں کے حصے میں آئے گی۔ خالق نے چاہا کہ وہ چمتکار کے طور پر اس دنیا کو پیدا نہ کرے، بلکہ وہ پوری طرح اسباب و علل کے ذریعے اس کو وجود میں لائے۔

حضرت موسیٰ خدا کے پیغمبر تھے۔ انہوں نے ایک لکڑی زمین پر ڈالی اور خدا کے حکم سے وہ ایک زندہ سانپ بن گئی۔ خدا چاہتا تو اسی طرح پوری کائنات کو اچانک معجزاتی طور پر پیدا کر دیتا، مگر ایسا کرنے کی صورت میں انسان کے اندر تخلیقیت، یعنی کریٹیوٹی، کا ارتقا نہ ہوتا۔ نہ سائنس بنتی اور نہ تہذیب وجود میں آتی۔

اس لیے خالق نے کائنات کو ایک لمبے پراسیس کے روپ میں پیدا کیا، تاکہ انسان اپنی سوچ کو عمل میں لائے اور ذہنی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ یہ ایک لمبا منصوبہ تھا، چنانچہ اس کی تکمیل میں تقریباً 15 بلین سال گزر گئے۔ قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ آسمان اور زمین اور اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے، اس لحاظ سے دیکھیے تو کائنات کی تخلیق کا 15 بلین سالہ منصوبہ گویا صرف انسان کے لیے تھا۔

اب انسان سے کیا مطلوب ہے؟ وہ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے معرفتِ الہی۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تخلیق میں غور و فکر کر کے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ یہی معرفت جنت کی قیمت ہے۔

معرفت کا یہ عمل کوئی محدود عمل نہیں۔ وہ موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت کی دنیا تک جاری رہتا ہے۔ یہ ایک ابدی عمل ہے جس کا آغاز تو معلوم ہے، لیکن اس کی انتہا، یعنی اینڈ، معلوم نہیں۔ معرفت کے حصول کا عمل دنیا میں ابتدائی طور پر جاری ہوتا ہے، اور آخرت میں وہ اپنی انتہائی صورت میں جاری رہے گا۔

یہی معرفت انسان کا اصل امتیاز ہے۔ یہی معرفت انسان کو جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔ یہی معرفت کسی انسان کے لیے اس انعام کا سبب بنے گی کہ اس کو خداوند ذوالجلال کے قریب مقعد صدق، سورہ نمبر 54 آیت 55 میں جگہ ملے۔ موجودہ گلوبل وارمنگ خالق کی طرف سے اس بات کا علام ہے کہ تخلیق کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا، یعنی افراد کے انتخاب کا مرحلہ۔

اب خالقِ کائنات غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا۔ وہ کامل انصاف کے مطابق لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان جاگے اور تیاری کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں وہ ابدی جنت میں جگہ پا سکے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 526۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.