فہرستِ آرزو: کلیئری سیمپسن امریکہ کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ مختلف قسم کے وقتی جاب کرتی رہیں، یہاں تک کہ ان کی تمناؤں کے مطابق ان کو امریکہ کے ٹائم میگزین میں اپنی پسند کا کام مل گیا۔ اس وقت وہ ٹائم میگزین کے دفتر نیویارک میں ڈائریکٹر، یعنی ایڈورٹائزنگ سیلز ڈائریکٹر ہیں۔ ٹائم کے شمارہ 5 اگست 1991، صفحہ 4 میں مذکورہ خاتون کا ہنستا ہوا پر ابتہاج فوٹو چھپا ہے۔
وہ اس عہدے کے ملنے پر انتہائی خوش ہیں۔ تصویر کے نیچے ان کا پر مسرت تاثر ان لفظوں میں درج ہے: "ٹائم کے لیے کام کرنا ہمیشہ سے میری فہرستِ آرزو پر تھا۔ " "Working for time was always on my wish list." ہر آدمی کسی چیز کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ وہ اس کی تمنا میں جیتا ہے، وہ اس کا خواب دیکھتا ہے، وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب وہ دن آئے جب کہ وہ اپنی اس محبوب چیز کو پا لے۔
یہ چیز اس کی فہرستِ آرزو میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ درج ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جس کے لیے کوئی نہ کوئی چیز اس طرح مرکزِ تمنا بنی ہوئی نہ ہو۔ مومن وہ ہے جس نے جنت کو اپنی فہرستِ آرزو، یعنی وِش لسٹ، میں لکھ رکھا ہو۔ یعنی ابدی اور معیاری نعمتوں کی وہ دنیا جہاں وہ اپنے رب کو دیکھے گا، جہاں سچے انسانوں سے اس کی ملاقات ہوگی، جہاں وہ خدا کی رحمتوں کے سائے میں زندگی گزارے گا۔
وہ دنیا جو لغو اور تعظیم سورہ نمبر 56 آیت 25 سے پاک ہوگی، جہاں سخب یعنی شور اور نصب یعنی تکان کو ختم کر دیا جائے گا۔ جس کا ماحول چاروں طرف حمد اور سلامتی سے بھرا ہوا ہوگا۔ سورہ نمبر 56 آیت 26۔ جہاں خوف اور حزن سورہ نمبر 35 آیت 34 کو حذف کیا جا چکا ہوگا۔
جہاں ایسی آزادی ہوگی جس پر کوئی قید نہیں۔ سورہ نمبر 76 آیت 20۔ جہاں ایسی لذتیں ہوں گی جن کے ساتھ محدودیت یعنی لیمیٹیشن شامل نہیں۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 525۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.