Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ka ticket

Urdu · 4 min

جنت کا ٹکٹ مغربی دنیا کے ایک سفر میں، میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی، ان کی عمر 50 سال سے اوپر ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "مجھ کو تو جنت کا ٹکٹ چاہیے"۔ مجھ کو آپ صرف یہ بتائیے کہ جنت کا ٹکٹ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ معروف معنوں میں جنت کا کوئی ٹکٹ نہیں۔

یہ جنتی ٹکٹ کا معاملہ نہیں، یہ جنتی شخصیت کا معاملہ ہے۔ آخرت کی قیمتی جنت اس آدمی کو ملے گی جس نے اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کی تھی۔ جنت میں داخلہ کسی کو ٹکٹ کے ذریعے نہیں ملے گا۔ جنت کی قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے۔

اپنے وجود کی قیمت دے کر ہی کوئی شخص جنت کی دنیا میں اپنے لیے داخلہ پا سکتا ہے۔ جنت میں داخلے کی شرط یہ ہے کہ آدمی مزکّہ شخصیت، سورہ نمبر 20 آیت 76 لے کر وہاں پہنچا ہو۔ یعنی وہ ایک ایسا انسان ہو جس کے اندر پاکیزہ روح بسی ہوئی ہو، جس کا دل اور دماغ آلائشوں سے پاک ہو، جس نے اپنے اندر ربانی شخصیت کا باغ اگایا ہو۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جس کے ایک طرف کیچڑ ہے اور دوسری طرف صاف و شفاف پانی۔

آدمی چاہے تو اپنے کو کیچڑ میں آلودہ کرے، اور چاہے تو صاف پانی میں نہا کر وہ صاف ستھرا بن جائے۔ جو لوگ اپنے آپ کو آلودہ کریں، وہ آخرت میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو پاک کریں، ان کو جنت کی ابدی نعمت گاہوں میں بسایا جائے گا۔ اعتراف کے موقع پر اعتراف کرنا اپنی شخصیت کو پاک کرنا ہے۔

اور اعتراف کے موقع پر بے اعترافی کا رویہ اختیار کرنا اپنی شخصیت کو آلودہ کرنا ہے۔ اسی طرح ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیتا ہے اور دوسرا شخص پست اخلاق کا۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص حق تلفی کرتا ہے اور دوسرا شخص حق رسانی۔ ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص امین یعنی آنست ثابت ہوتا ہے اور دوسرا شخص خائن یعنی ڈس آنست۔

ایک موقع آتا ہے جس میں ایک شخص تواضع یعنی ماڈیسٹی کے راستے پر چلتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کے راستے پر۔ ان میں سے پہلا آدمی اپنی شخصیت کو پاک کرنے والا ہے۔ اور بلاشبہ جنت کی نفیس دنیا میں ایسے ہی مزکّہ انسانوں کو داخلہ ملے گا۔ اس کے برعکس دوسرا آدمی اپنی شخصیت کو آلودہ کرنے والا ہے۔

اور جہنم بلاشبہ ایسے ہی غیر مزکّہ لوگوں کا ٹھکانہ ہوگا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 524۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.