← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Jannat ki zindagi
Urdu · 7 min
جنت کی زندگی: جاپان کے سفر، دسمبر 1990 میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ دنیا عارضی جگہ ہے، اور آخرت ابدی قیام کی جگہ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی جنت ابدی دنیا میں تعمیر کرے۔ انہوں نے کہا، انسان کسی راحت یا لذت کی چیز سے تھوڑی دیر کے بعد اکتا جاتا ہے۔
چنانچہ جدید ترقی یافتہ دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر اکتاہٹ، یعنی بورڈم کا مسئلہ، پیدا ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں ابدی جنت سے کیا فائدہ؟ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے، وہ ہمیشہ سے یہی بات کہتے آ رہے ہیں، مگر یہ صرف ایک مغالطہ، یعنی فیلسی ہے۔ اصل یہ ہے کہ اکتاہٹ، یعنی بورڈم، استعدادِ تلذذ، یعنی ability to enjoy، کے خاتمے کی بنا پر آتی ہے، نہ کہ خود خواہشِ تلذذ، یعنی desire to enjoy pleasure، کے خاتمے کی بنا پر۔
ان حضرات نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جب ہم کسی لذت سے enjoy کرنا چاہتے ہیں تو کچھ دیر بعد اس سے ہمارا جی بھر جاتا ہے، اور پھر اس میں ہمارے لیے لذت باقی نہیں رہتی۔ مگر یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اپنے اندر غیر تسکین پذیر فطرت، یعنی insatiable nature، رکھتا ہے۔ انسان کو جو چیزیں مرغوب ہیں، ان سے وہ ابدی طور پر محظوظ ہونا چاہتا ہے۔
مگر موجودہ دنیا میں انسان بے شمار محدودیتوں، یعنی limitations، کا شکار ہے۔ چنانچہ انسان جب بھی کسی مرغوب چیز سے enjoy کرنا چاہتا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد اس کی محدودیت اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ رغبت کے باوجود وہ اس چیز سے enjoy کرنے کی طاقت کھو دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم ایک لذیذ چیز کھاتے ہیں تو اس چیز کی لذت ہمارے لیے ختم نہیں ہوتی، بلکہ ہمارا پیٹ بھر جاتا ہے۔
اس لیے ہم کو اسے چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ اسی طرح اکثر دولت مند لوگ رغبت کے باوجود چیزوں کو کھانا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ موٹے ہو کر طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی حال تمام دوسری لذتوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتاہٹ یا بے رغبتی ہماری enjoy کرنے کی استعداد کی حد ہے، نہ کہ خود رغبت کی حد۔
جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ صرف یہ ہوگا کہ تمام لذتیں مزید اضافے کے ساتھ، زیادہ مکمل حالت میں، انسان کو دی جائیں گی، بلکہ ان لذتوں سے enjoy کرنے کی استعداد کے سلسلے میں اس کی محدودیت بھی ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں یہ تضاد ختم ہو جائے گا کہ آدمی enjoy کرنا چاہتا ہے، مگر اپنی کسی محدودیت کی بنا پر وہ اپنی مرغوب چیزوں سے enjoy نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت انسان کے لیے ابدی خوشیوں کی جگہ بن جائے گی۔ دنیا میں آدمی کو جس اکتاہٹ، یعنی بورڈم، کا تجربہ ہوتا ہے، وہ دراصل ایک تضاد کا نتیجہ ہے۔
آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند، یعنی idealist، مخلوق ہے۔ وہ چیزوں کو ان کی ideal صورت میں پانا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں ہر چیز غیر معیاری یا غیر ideal ہے۔ بورڈم کا اصل سبب یہی ہے: آدمی اپنے شوق کے تحت ایک چیز کی طرف دوڑتا ہے۔
اس کو پانے سے پہلے وہ اس— اس کو پانے سے پہلے وہ اس فریب میں رہتا ہے کہ یہ عین وہی ideal چیز ہے جس کا وہ طالب تھا۔ مگر حاصل کر لینے کے بعد جب وہ اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے مطلوب ideal سے بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کو تلاش کی لذت تو ملتی ہے، مگر یافت کی لذت اسے نہیں ملتی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے فریبِ لذت ہے اور آخرت میں حقیقی لذت۔
آخرت کی ہر چیز معیاری ہوگی۔ اس بنا پر وہ آدمی کے لیے حقیقی اور لامحدود لذت کا ذریعہ بن جائے گی۔ آدمی جو کچھ چاہتا ہے، وہ جنت میں اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جائے گا۔ اس لیے وہاں اس کے لیے اکتاہٹ کا کوئی سوال نہ ہوگا۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 522۔