ڈیوائن سولائزیشن قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا انہیں جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انہیں پہچان کرا دی ہے۔ سورہ نمبر 47 آیت 6۔ اس پہچان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ دراصل موجودہ انسانی تہذیب، یعنی ہیومن سیولائزیشن ہے۔
اس تہذیب کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان زمین پر رہتا تھا، لیکن انسان کی زندگی میں جنت جیسی کشش موجود نہ تھی۔ حتیٰ کہ اس زمانے میں بادشاہوں کے محل بھی پتھروں کے ڈھیر کی مانند ہوتے تھے۔ موجودہ تہذیب نے پہلی بار انسانی زندگی کو راحت اور خوبصورتی عطا کی۔ اس طرح وہ جنت کا ایک بعید تعارف بن گئی، مگر مختلف محدودیتوں، یعنی لیمیٹیشنز کی وجہ سے، یہ تعارفی جنت اصل جنت کا صرف جزئی تعارف تھی۔
موجودہ جنت کیسے بنی؟ یہ دراصل سائنٹسٹ کمیونٹی تھی جس نے اپنی دریافتوں سے اس جنت کی تعمیر کو ممکن بنایا۔ یہ موجودہ دنیا کی تعارفی جنت تھی۔ اگلے دورِ حیات میں اصل جنت کی تعمیر ہوگی۔
موجودہ دنیا اگر انسانی جنت، یعنی ہیومن پیراڈائز تھی، تو آخرت کی جنت خدائی جنت، یعنی ڈیوائن پیراڈائز ہوگی۔ انسانی جنت کو سائنٹسٹ کمیونٹی نے بنایا، اور خدائی جنت کو عارف کمیونٹی، یعنی ریالائزڈ کمیونٹی، فرشتوں کی مدد سے بنائے گی۔ موجودہ دنیا اسی قسم کے عارفین کی تربیت گاہ ہے۔ ہر پیدا ہونے والا انسان اس تربیتی کورس سے لازماً گزرتا ہے۔
جو لوگ اس تربیتی کورس میں کامیاب نہ ہو سکیں، ان کو اگلے دورِ حیات میں رد کر دیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس تربیتی کورس میں کامیاب رہیں، ان کو منتخب کر کے اس عارف کمیونٹی کی تشکیل کی جائے گی جو اگلے دورِ حیات میں پرفیکٹ، یعنی پرفیکٹ پیراڈائز کی تعمیر کرے گی۔ اس جنت میں وہ تمام سرگرمیاں ہوں گی جو موجودہ دنیا میں پائی جاتی ہیں، مگر دونوں میں یہ فرق ہوگا کہ موجودہ دنیا کی انسانی سرگرمیاں یہاں کے محدود ماحول میں انجام پاتی ہیں، جبکہ جنت میں یہ سرگرمیاں وہاں کے لامحدود ربانی ماحول میں انجام پائیں گی۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 521۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.