ملنے سے محروم۔ دریا کے دو ساحل ہوتے ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے محروم رہتے ہیں۔ تقریباً یہی حال انسان کا ہے؛ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بے شمار خواہشات، یعنی desires، کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ دوسری طرف، اس دنیا میں خواہشات کی تکمیل کا سامان بھی وافر مقدار میں موجود ہے، لیکن کوئی انسان اپنی خواہشات کی تکمیل، یعنی fulfillment، نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔
گویا کہ ایک طرف خواہشات کی دنیا، یعنی world of pleasure ہے، جس کے اوپر لکھا ہوا ہے: "No taker"۔ دوسری طرف انسان کی دنیا ہے، جو خاموش زبان میں یہ کہہ رہی ہے کہ "Water, water, everywhere; not a drop to drink." یہ متضاد صورتحال، یعنی contradictory situation، ہزاروں سال سے جاری ہے۔ ہر ایک، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے، لیکن کسی کو اس کا جواب معلوم نہیں۔ اسی کا ایک اظہار یہ ہے کہ ہر مقبول ناول جو لکھا گیا ہے، وہ المیہ، یعنی tragedy ہے۔
کوئی بھی مقبول ناول تربیتی، یعنی comedy، نہیں؛ ناول انسانی تجربے کا اظہار ہوتا ہے۔ اور موجودہ حالت میں، المیہ ہی انسانی mind کو address کرتا ہے، نہ کہ تربیتی۔ یہ صورتحال آخرت کے مذہبی عقیدے کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ صورتحال آخرت کے مذہبی عقیدے کی تصدیق ہے۔
اس صورتحال کی توجیہ صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ دو ساحل، جو موت سے پہلے کے مرحلہ حیات میں یکجا نہ ہو سکے، وہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں یکجا ہوں گے۔ اور پھر انسان کو وہ fulfillment مل سکے گا جو موجودہ دنیا میں اس کو نہ مل سکا۔ یہاں ایک طرف مچھلی ہے اور دوسری طرف پانی۔ مچھلی پانی کے بغیر ہے اور پانی مچھلی کے بغیر۔
اس طرح دونوں ناتمام حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال آخرت میں ختم ہوگی۔ اس وقت انسان کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کی کہانی کو تربیتی کے اصول پر لکھ سکے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 513۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.