Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Insan ka mustaqbil

Urdu · 4 min

انسان کا مستقبل انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک لذت پسند حیوان، یعنی پلیژر سیکنگ اینیمل ہے۔ انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ چیزوں سے محظوظ ہو سکے؛ سوچنے میں لذت، بولنے میں لذت، دیکھنے میں لذت، سننے میں لذت، کھانے میں لذت، چھونے میں لذت، رفاقت میں لذت۔ غرض انسان کے اندر لامحدود طور پر لذت پسندی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ چیزوں سے محظوظ ہونا انسان کے لیے ایک اعلیٰ ترین محبوب تجربہ ہے۔

لیکن موت سے قبل کی دنیا میں جو زندگی انسان کو حاصل ہے، اس میں وہ کسی بھی چیز سے پوری طرح محظوظ نہیں ہو پاتا۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں سامانِ حیات کی محدودیت، یعنی لیمیٹیشنز، اس میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ ہے کہ انسان کسی بھی چیز سے پوری طرح محظوظ ہو سکے۔ فطری طور پر لذت پسندی کا مزاج ہونے کے باوجود، موجودہ دنیا میں کسی بھی انسان کو فلفلمنٹ حاصل نہیں ہوتا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق اس فلفلمنٹ کا مقام موت کے بعد آنے والی دنیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون انسان ہے جس کو اس اگلی دنیا میں فلفلمنٹ کا موقع ملے گا؟ اگر دوبارہ اس کے حصول کے لیے اعمال کی کڑی شرط ہو تو غالباً کوئی بھی انسان اس پر پورا نہیں اترے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے پناہ حد تک لذتوں کا طالب ہونے کے باوجود، انسان ان لذتوں کی تکمیل سے ابدی طور پر محروم رہے گا۔ موت سے پہلے کی دنیا میں خود دنیا کی محدودیت، یعنی لیمیٹیشنز، کی بنا پر اور موت کے بعد کی زندگی میں اپنی عملی کوتاہی کی بنا پر۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت کسی کو اپنے اعمال کی مقدار کی بنا پر نہیں ملے گی، بلکہ وہ صرف اللہ کی رحمت سے ملے گی۔ یہ وہ انوکھے لوگ ہیں جنہوں نے سب کچھ کرنے کے باوجود حقیقی طور پر اپنے عمل کو حذف کر دیا ہو، اور وہ حقیقی طور پر اللہ کی رحمت کے امیدوار بن گئے ہوں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 514۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.