Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Dunya aur aakhirat.

Urdu · 3 min

دنیا اور آخرت۔ دنیا کا مطلب ہے آج میں جینا، آخرت کا مطلب ہے کل میں جینا۔ دنیا کا مطلب ہے قبل از موت زندگی کی فکر کرنا، آخرت کا مطلب ہے بعد از موت زندگی کی تیاری کرنا۔ دنیا کا مطلب ہے حال کی تعمیر، اور آخرت کا مطلب ہے مستقبل کی تعمیر۔

کسی انسان کے لیے زندگی کی دو قسمیں ہیں: دنیا پرستانہ زندگی اور آخرت پرستانہ زندگی۔ دنیا پرستانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی دنیا کی ترقی کو اپنا مقصد بنائے۔ اس کی دلچسپی صرف دنیا کی چیزوں سے ہو۔ وہ دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھے، اور دنیا کی ناکامی کو ناکامی۔

اس کا دماغ صرف دنیا کو لے کر سوچے، اور اس کا دل دنیا کے معاملات میں اٹکا ہوا ہو۔ دنیا پرست انسان وہ ہے جس کی محبت بھی دنیا کے لیے ہو، اور اس کی نفرت بھی دنیا کے لیے۔ وہ دنیا کی چیزوں کے ملنے پر خوش ہوتا ہو، اور جب دنیا کی چیزیں نہ ملیں تو وہ مایوس ہو جائے۔ دنیا میں کوئی عزت کا مقام پانا اس کے اندر فخر یعنی pride کا جذبہ پیدا کرے، اور دنیا میں بے عزتی کا تجربہ اس کو منفی احساس یعنی negativity میں مبتلا کر دے۔

آخرت پسندانہ زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آخرت پسند انسان وہ ہے جس کا واحد concern یعنی sole concern صرف آخرت بن جائے۔ جو ہر وقت آخرت کے بارے میں سوچے۔ جو موت کے بعد آنے والے واقعات پر فکرمند رہتا ہو۔

جو میدانِ حشر میں پیش آنے والے محاسبہ یعنی accountability کو یاد کرتا رہے۔ آخرت پسند انسان وہ ہے جس کے ذہن پر آخرت کا احساس اتنا زیادہ چھا جائے کہ دنیا کی ہر چیز اس کو بے قیمت معلوم ہونے لگے۔ جو آخرت کی جنت کا حریص ہو، اور آخرت کی جہنم کی یاد اس کو بے چین کر دے۔ جو قیامت سے پہلے قیامت کو دیکھ لے۔

جو میدانِ حشر میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے کھڑا ہوا پائے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 512۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.