ایک استثنائی معاملہ: وسیع خلا میں بے شمار مخلوقات ہیں، ستارے اور سیارے، سورج اور چاند، دریا اور پہاڑ، درخت اور حیوانات وغیرہ۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کا معاملہ موت اور آخرت کا معاملہ ہو۔ انسان ہمیشہ سے کائنات کا مطالعہ کرتا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں دوربین یعنی ٹیلیسکوپ اور خردبین یعنی مائیکروسکوپ نے اس مطالعہ اور مشاہدے کا دائرہ بہت وسیع کر دیا ہے۔
اس وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جس کا معاملہ استثنائی طور پر یہ ہے کہ وہ ایک وقت خاص میں مرتا ہے، اور اس کے بعد وہ آخرت کے عالم میں اپنی اگلی زندگی شروع کرتا ہے۔ یہ آخرت کی دنیا بروقت ناقابلِ مشاہدہ ہے۔ یہ ناقابلِ مشاہدہ دنیا صرف اس وقت کسی کے لیے قابلِ مشاہدہ بنتی ہے جبکہ بالفعل وہ اپنے اس دوسرے دورِ حیات میں داخل ہو چکا ہو۔ موت اور آخرت کا یہ استثنائی معاملہ انسان کا بلاشبہ سب سے بڑا امتحان ہے۔
مشاہدہ اور تجربے کا جو عام انسانی اصول ہے، اس کے تحت کوئی شخص موت اور آخرت کے مسئلے کو سمجھ نہیں سکتا۔ موت اور آخرت کے تصور کو ذہن میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر تجریدی فکر یعنی detached thinking کی صلاحیت موجود ہو۔ وہ عام مشاہداتی اصول سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ صرف اسی قسم کی استثنائی صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ موت اور آخرت کے معاملے کو دریافت کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔
موت اور آخرت کے اسی استثنائی پہلو کی بنا پر ایسا ہے کہ لوگ موت اور آخرت کے حقیقی شعور سے محروم رہتے ہیں۔ موت اور آخرت کا معاملہ ان کے شعور کا غالب حصہ نہیں بنتا۔ موت اور آخرت کے معاملے کو یا تو وہ مانتے نہیں، یا وہ صرف اس کو رسمی طور پر مانتے ہیں۔ اور رسمی طور پر ماننے کا کوئی فائدہ نہیں۔
موت اور آخرت کو ماننا وہی ماننا ہے جو آدمی کے اندر آخرت رُخی سوچ یعنی آخرت oriented thinking پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 511۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.