احساسِ ابدیت: انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے احساسِ ابدیت، یعنی sense of eternity، کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس کے جینیٹک کوڈ میں موت، یعنی death، کا اندراج نہیں۔ اپنی فطرت یا اپنے لاشعور کے اعتبار سے، انسان اس احساس میں جیتا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد اب وہ ابدی ہو چکا ہے؛ اس پر موت وارد ہونے والی نہیں۔ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کو ایک دن مرنا ہے، مگر انسان کا داخلی احساس یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک ابدی وجود کی حیثیت رکھتا ہوں۔
یہ دو طرفہ تقاضا ہر عورت اور ہر مرد کو ایک بے حد نازک امتحان میں مبتلا کر دیتا ہے؛ یعنی احساسِ ابدیت کے باوجود احساسِ موت میں جینا۔ اپنے آپ کو ابدی مخلوق، یعنی eternal being، سمجھتے ہوئے اس یقین میں جینا کہ میں لازماً ایک دن مر جاؤں گا، موجودہ دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہنا میرے لیے مقدر نہیں۔ یہ احساسِ ابدیت، ایک اعتبار سے، ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ احساس آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ وہ کائنات کی دوسری چیزوں کے برعکس ایک دوامی وجود ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ موت اور محاسبۂ آخرت کو مسلسل طور پر یاد رکھے۔
اس دو طرفہ تقاضے میں جینا، بلاشبہ، سب سے زیادہ سخت امتحان ہے۔ جنت میں وہ انسان داخل ہوگا جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔ اگر آدمی باشعور ہو تو یہ دو طرفہ احساس اس کے لیے اس کی شخصیت کے ارتقاء کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گا۔ اپنی ابدیت کو سوچ کر وہ خدا کا بے حد شکر گزار بن جائے گا کہ اس کے خالق نے اس کو ابدیت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔
دوسری طرف، موت اور محاسبۂ آخرت کا معاملہ مسلسل طور پر اس کی اصلاح کا سبب بنا رہے گا۔ ایک طرف وہ خدا کا شکر گزار بندہ ہوگا، اور دوسری طرف خدا کے خوف میں جینے والا بندہ بھی۔ روحانی تزکیہ یا تعمیرِ شخصیت کا اس سے بڑا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 510۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.