Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Dunya aur aakhirat ka farq.

Urdu · 4 min

دنیا اور آخرت کا فرق: موجودہ دنیا انسان کے چارج میں دی گئی ہے، یہاں کی تمام سرگرمیاں انسان کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ موجودہ دنیا انسانی تعلقات پر مبنی ہے؛ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، تمام عورت اور مرد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک کا کام دوسرے سے بنتا ہے، یہی اجتماعیت خاندان اور سماج اور قوم تینوں سطح پر قائم ہے۔ مگر آخرت کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہوگی۔

آخرت کی دنیا میں بھی آج کی طرح سب کچھ ہوگا، لیکن آخرت کی دنیا کے انچارج فرشتے ہوں گے۔ آخرت کی دنیا میں اہلِ جنت کو انعام ملے گا اور اہلِ جہنم کو سزا، لیکن دونوں صورتوں میں انتظامی بندوبست مکمل طور پر فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کا کام بنانے کے لیے ہر جگہ اس کو انسان مل جاتے ہیں۔ ہر سطح پر ایسے افراد مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کا کام انجام دیتے رہیں۔

موجودہ دنیا کی یہ صورتحال آدمی کو غفلت میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں جس طرح اس کا کام رشتہ داروں اور غیر رشتہ داروں کے ذریعے انجام پا رہا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی اس کے تمام کام انجام پاتے رہیں گے۔ مگر یہ سخت قسم کی غلط فہمی ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ تمام انسانی تعلقات ٹوٹ جائیں گے جو آج ہر سطح پر نظر آ رہے ہیں۔

آخرت کے تمام کام فرشتے انجام دیں گے۔ یہ فرشتے صرف وہی کریں گے جس کا خدا نے ان کو حکم دیا ہے۔ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ یہ صورتحال بے حد سنگین ہے۔ موجودہ دنیا کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے آدمی یہ سمجھتا رہتا ہے کہ آخرت میں بھی اس کو اپنے آدمی مل جائیں گے جو اس کا کام بنا دیں گے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے تمام اپنے لوگ وہاں اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہاں ہر انسان اپنے آپ کو اکیلا پائے گا۔ وہاں فرشتوں کے سوا کوئی اور نہ ہوگا جو اس کا کام بنائے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 507۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.