Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat-Maaddi ya ruhaani.

Urdu · 4 min

جنت مادی یا روحانی؟ ایک بار مولانا سید سلیمان ندوی، وفات 1953، اور ڈاکٹر محمد اقبال، وفات 1938، کے درمیان ایک مسئلے پر بحث ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ جنت مادی ہے یا روحانی۔ مولانا سید سلیمان ندوی کا کہنا تھا کہ جنت مادی ہے، اور ڈاکٹر محمد اقبال کا خیال تھا کہ جنت روحانی ہے۔

جب دونوں میں اتفاق نہ ہو سکا تو مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ٹھیک ہے، آپ اپنی روحانی جنت میں جائیں گے اور ہم اپنی مادی جنت میں جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت روحانی بھی ہے اور مادی بھی۔ جنت محض ایک عیش کدہ نہیں ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَأُتُو بِهِ مُتَشَابِهَةٌ سورہ نمبر 2 آیت 25۔

یعنی موجودہ دنیا کی سرگرمیوں کی طرح جنت کی دنیا بھی کامل طور پر سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ البتہ یہ سرگرمیاں شغلِ فاقع، سورہ نمبر 36 آیت 55 کی صورت میں ہوں گی۔ یعنی پر مسرت سرگرمیاں، یعنی joyful activities۔ یہ سرگرمیاں ہر قسم کی ان سرگرمیوں پر محیط ہوں گی جن کو ذہنی اور فکری سرگرمیاں، یعنی intellectual activities، کہا جاتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جنت میں مادی نعمتیں بھی ہوں گی۔ یہ نعمتیں اہلِ جنت کو خدا کی طرف سے ضیافت، یعنی hospitality، کے طور پر ملیں گی۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ حامیم السجدہ میں آیا ہے: نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ "As a rich hospitality from one who is ever forgiving, ever forgiving, and most merciful." چیپٹر نمبر 41، آیت نمبر 32۔ جنت میں اہلِ جنت پر مسرت قسم کی اعلیٰ ربانی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔

یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔ اس طرح جنت میں اہلِ جنت کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی لامحدود صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کر سکیں۔ مادی نعمتوں کے لیے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ اہلِ جنت کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے مہمان کی ہوگی، اور ان کو ہر قسم کا سامانِ ضیافت اللہ کی طرف سے فراہم کیا جاتا رہے گا۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 508۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.