"زیادہ بڑا ایمپائر" ایک صاحب کے یہاں اعلیٰ صلاحیت کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے غیر معمولی اوصاف کو دیکھ کر باپ نے کہا کہ میرا بیٹا مستقبل میں ایک ایمپائر بنائے گا۔ My son will be an empire builder. باپ کا یہ اندازہ صحیح ثابت ہوا۔
بیٹا جب بڑا ہوا تو اس نے ایک بزنس شروع کیا۔ اس کی خداداد صلاحیت کی بنا پر اس کے کام میں غیر معمولی ترقی ہوئی، یہاں تک کہ وہ اپنا ایک بزنس ایمپائر بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن یہ ایمپائر زیادہ دن تک اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ آخر کار ایک محدود مدت کے بعد وہ بھی مر کر اس دنیا سے اسی طرح چلا گیا جس طرح دوسرے لوگ اس دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
یہ مادی ایمپائر، یعنی مٹیریل ایمپائر کی بات ہے۔ مادی ایمپائر صرف مختصر مدت تک آدمی کا ساتھ دیتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اور ایمپائر ہے جو ہمیشہ کے لیے آدمی کے ساتھ رہتا ہے۔ یہ فکری ایمپائر، یعنی انٹلیکچول ایمپائر ہے۔
فکری ایمپائر سے مراد ہے ذہنی ارتقاء، روحانی دریافت، شخصیت کی تعمیر، انسانی امکانات یعنی پوٹینشلز کو واقعہ یعنی ایکچول بنانا۔ یہی وہ انسان ہے جس کو مذہب کی زبان میں "ربانی انسان" کہا جاتا ہے۔ ربانی انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو دریافت کرے، جو اپنی عقلی صلاحیتوں کو استعمال کر کے خدا کی معرفت حاصل کرے، جو خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کرے، جو اپنے آپ کو جنتی کردار والا انسان بنائے۔ ایسا انسان جس کو موت کے بعد کی دنیا میں ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔
دوسرے لوگ اگر مادی دنیا میں اپنا ایک خارجی ایمپائر بناتے ہیں تو ایسا شخص خود اپنے اندر ایک داخلی ایمپائر بناتا ہے۔ مادی ایمپائر صرف کچھ مدت تک کسی آدمی کا ساتھ دیتا ہے۔ لیکن روحانی ایمپائر، یعنی اسپرچول ایمپائر، وہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ تک کسی آدمی کو حاصل رہے گا۔ اول الذکر اگر وقتی خوشی کا ذریعہ ہے تو ثانی الذکر ابدی خوشی کا ذریعہ۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 506۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.