Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Fitrat me tazaad

Urdu · 4 min

فطرت میں تضاد؟ وسیع کائنات میں صرف ایک سیارہ ہے جو انسانی زندگی کے لیے سازگار ہے۔ یہ سیارے زمین ہے۔ حال میں امریکہ کے ایک سائنسی ادارے نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ انسان جس طرح زمین کے وسائل کو استعمال کر رہا ہے، اس رفتار کے مطابق موجودہ زمین 2030 تک انسان کے لیے ناقابلِ رہائش ہو جائے گی۔

اس کے بعد زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا موجودہ نظام اتنا زیادہ بگڑ جائے گا کہ یہاں انسان اور زندگی کی دوسری انواع کا تقریباً خاتمہ ہو جائے گا۔ اس معاملے کا ایک سنگین نظریاتی پہلو ہے: انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود خواہشیں رکھتا ہے، لیکن اس کائنات میں جو واحد دنیا انسان کو رہنے کے لیے ملی ہے، وہ صرف محدود ذرائع حیات کی حامل ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تضاد اب ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکا ہے۔ جس خالق نے انسان کو بنایا ہے، وہی خالق زمین کو بنانے والا بھی ہے۔

پھر ایک ہی خالق کی دو مخلوق کے درمیان یہ تضاد کیوں؟ یہ تضاد آخرت کے تصور کے حق میں ایک واضح دلیل ہے۔ اس فرق کی توجیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ خالق نے انسان کی زندگی کو دو دوروں میں تقسیم کر دیا ہے: موت سے پہلے کے دورِ حیات کے لیے خالق نے موجودہ زمین بنائی، اور موت کے بعد کے دورِ حیات کے لیے خالق نے ایک اور دنیا تعمیر کی، جس کو آخرت یعنی ہیر آفٹر کی دنیا کہا جاتا ہے۔ تضاد کے اس معاملے کی توجیہ خالق کے تخلیقی پلان سے ملتی ہے۔

خالق کا تخلیقی پلان یہ ہے کہ موجودہ غیر معیاری دنیا میں ہر عورت اور مرد کو آباد ہونے کا موقع ملے، لیکن آخرت کی معیاری دنیا میں صرف ان لوگوں کو بسایا جائے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔ موجودہ دنیا میں یہی انتخاب ہو رہا ہے۔ آخری فیصلہ لوگوں کے اپنے قول و عمل کے ریکارڈ کے مطابق ہوگا۔ دانشمند وہ ہے جو اپنے آپ کو آخرت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کا اہل ثابت کرے۔

نادان وہ ہے جو موجودہ موقع کو غفلت میں ضائع کر دے، اور آخر میں اس کے پاس حسرت اور افسوس کے سوا کچھ اور باقی نہ رہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 505۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.