زمین کی وراثت: مچھلی ایک زندہ حیوان ہے، مچھلی اپنے آپ میں ایک مکمل وجود ہے۔ لیکن مچھلی کو زندہ رہنے کے لیے ایک موتین یا فطری جائے رہائش، یعنی ہیبیٹٹ، درکار ہے۔ مچھلی کو اگر پانی سے نکال کر صحرا، یعنی ڈیزرٹ، میں ڈال دیا جائے تو وہ بدستور مچھلی ہوگی، لیکن وہاں وہ صرف تڑپتی رہے گی۔ صحرا کے ماحول میں اس کو زندگی کی نعمت حاصل نہ ہو سکے گی۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان مکمل معنوں میں ایک زندہ وجود ہے، لیکن حقیقی معنوں میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک موتین، یعنی ہیبیٹٹ، درکار ہے۔ موجودہ زمین انسان کے لیے اسی قسم کا ایک موتین ہے۔ انسان کرۂ ارض پر ہی حقیقی معنوں میں زندہ رہ سکتا ہے اور ترقی کر سکتا ہے۔
انسان کو اگر موجودہ زمین سے نکال کر چاند جیسے کسی کرے پر ڈال دیا جائے تو انسان وہاں بے آب مچھلی کی طرح تڑپے گا۔ وہ ایک قسم کی زندہ لاش بن کر رہ جائے گا۔ موجودہ دنیا انسان کے لیے ایک ایسا معلوم واقعہ ہے جس کی روشنی میں وہ جنت اور جہنم کے معاملے کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے۔ غور کیجیے تو موجودہ زمین میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کو جنت کی صفت بتایا گیا ہے۔
مثلاً یہاں کے قدرتی مناظر میں اتنا حسن ہے کہ آدمی جب اس کو دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ دور سے جنت کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں اچھے انسانوں کے ساتھ برے انسان بھی آباد ہیں۔ یہ برے انسان زمین کو ہر قسم کے فساد سے بھر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ زمین سے برے انسان نکال دیے جائیں اور صرف اچھے لوگ یہاں آباد ہوں، تو یہ زمین جنت کا نمونہ بن جائے گی۔
یہی بات ایک اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے ان الفاظ میں آئی ہے: "دنیا کے آخر میں فرشتے نکلیں گے اور شریروں کو راست بازوں سے جدا کریں گے، اور ان کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔ " متی، باب نمبر 13، آیت نمبر 49 تا 50۔ یہی بات حضرت داؤد کے مضامیر میں اس طرح آئی ہے: "صادق زمین کے وارث ہوں گے، اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔
" زبور، باب نمبر 37، آیت نمبر 29۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 504۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.