Imperfect جنت، پرفیکٹ جنت۔ موجودہ زمین پر وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کا وعدہ قرآن میں جنت کے لیے کیا گیا ہے۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا امپرفیکٹ دنیا، یعنی امپرفیکٹ ورلڈ ہے، اور جنت پرفیکٹ دنیا، یعنی پرفیکٹ ورلڈ۔
اسی معنی میں موجودہ دنیا کی نعمتوں کو قرآن میں جنت کی نعمتوں کے مشابہ، یعنی سمِلر، بتایا گیا ہے۔ سورہ نمبر 2، آیت 25۔ بظاہر موجودہ دنیا میں انسان کی تمام پسندیدہ چیزیں موجود ہیں، مگر موجودہ دنیا میں یہ چیزیں چکھنے کے لیے ہیں، وہ سیر ہونے کے لیے نہیں۔ یہاں وہ صرف بقدرِ ذائقہ، یعنی ٹیسٹ ہیں۔
جہاں تک فُلفِلمنٹ کی بات ہے، وہ صرف آخرت کی جنت میں ان سچے انسانوں کو ملے گا جو جنت کے داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جس کے اندر ذائقہ، یعنی ٹیسٹ، کا تصور پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حیوانات کے منہ میں بھی زبان ہوتی ہے، لیکن حیوانات کی زبان میں وہ ذائقہ خانے، یعنی ٹیسٹ بٹس، نہیں ہوتے جو انسان کی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسری تمام لذتوں کا ہے۔
انسان کے اندر خصوصی طور پر اس قسم کی صلاحیت کا ہونا بتاتا ہے کہ تمام مخلوقات میں صرف انسان ہے جس کو جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جنت انسان کے لیے ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ انسان کو خصوصی طور پر یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں کا جزوی تجربہ کرے، اور پھر وہ جنت کی اعلیٰ نعمتوں کا حریص بنے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی اس خصوصی حیثیت کو دریافت کرے، اور اس امکان کو اپنے لیے واقعہ بنانے کی کوشش کرے۔
یہی انسانی کامیابی کا واحد معیار ہے۔ اس معاملے میں جو شخص کامیاب ہوا، وہ کامیاب ہے، اور جو شخص اس معاملے میں ناکام ہوا، وہ ناکام۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 503۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.