Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat-Atiyya-e-khudawandi.

Urdu · 4 min

جنت عطیۂ خداوندی: تمام حیوانات اپنی ضرورت کے مقام پر چل کر یا رینگ کر پہنچتے ہیں، مگر اس میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مچھلی کا استثنا ہے۔ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، مگر مچھلی کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ رینگ کر یا چل کر پانی میں پہنچ جائے۔ وہ دریا کے کنارے تڑپتی رہے گی، لیکن خود سے وہ دریا کے اندر نہ جا سکے گی، الا یہ کہ کوئی شخص اس کو اٹھا کر پانی میں ڈال دے۔ یہ واقعہ تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتاتا ہے، اور وہ جنت کا معاملہ ہے: کوئی شخص کتنا ہی زیادہ صالح اور متقی ہو، مگر اس کا ذاتی عمل اس کو جنت میں نہیں پہنچا سکتا۔

کسی شخص کا جنت میں پہنچنا صرف اسی وقت ممکن ہے جبکہ اللہ اپنی رحمت کے ذریعے اس کو جنت میں داخل کر دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إِنَّهُ لَا يُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ. صحیح البخاری، رقم الحدیث 5673۔ یعنی بے شک کسی آدمی کا عمل اس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا۔

صحابہ نے کہا: "اے خدا کے رسول، کیا آپ بھی؟ " آپ نے فرمایا: "ہاں، إِلَّا یہ کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ " حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسانی عمل جنت کی قیمت نہیں۔ انسانی عمل صرف اس لیے ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔

اسی لیے انسانی عمل میں سب سے بڑی چیز معرفتِ الٰہی ہے۔ معرفتِ الٰہی میں جو شخص پورا اترے گا، اللہ اس کی طرف متوجہ ہوگا اور اپنی عنایتِ خاص کے تحت اس کے لیے جنت میں داخلے کا فیصلہ فرمائے گا۔ جنت کسی کو اللہ کی عنایت سے ملے گی، نہ کہ اپنے عمل کی قیمت کے طور پر۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا چند سالہ عمل کبھی ابدی جنت کے برابر نہیں ہو سکتا۔

کوئی شخص جو اپنے عمل کو جنت کی قیمت سمجھے، اس کا معاملہ آخرت میں اس شخص جیسا ہوگا جس کے پاس صرف ایک پیسہ ہو اور وہ ہوائی جہاز خریدنے کے لیے پہنچ جائے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 498۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.