Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat aur insan.

Urdu · 4 min

جنت اور انسان، جنت اور انسان، ایک دوسرے کا مثنّی یعنی کاؤنٹر پارٹ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی یعنی کمپلیمنٹری چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت مطلوبِ انسان ہے، اور انسان مطلوبِ جنت۔

انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں، جو جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جا سکیں۔ قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا سورہ نمبر 4، آیت 147۔ یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ؟

اللہ بڑا قدردان ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ برے اعمال کر کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں، اور پھر آخرت میں پہنچ کر وہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔ مفسر ابوالبرکات النسفی، وفات 1310 عیسوی، نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: "الایمان معرفة المنعم، والشكر الاعتراف بالنعمة" تفسیر النسفی، جلد 1، صفحہ 259۔

یعنی ایمان منعیم کی معرفت ہے، اور شکر نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔

اس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام یعنی بلیسنگز ہے۔ اس انعام کے لیے دل سے منعیم یعنی گیور کا معترف ہونا، بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 499۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.