معرفت جنت دنیا میں آخری قابلِ یافت چیز معرفت ہے، اور آخرت میں آخری قابلِ یافت چیز جنت۔ معرفت کیا ہے؟ معرفت حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ حقیقتِ اعلیٰ کا علم بالقوّة طور پر، یعنی potentially، ہر آدمی کے اندر موجود ہے۔
اسی بالقوّة کو بالفعل، یعنی actual، بنانے کا دوسرا نام معرفت ہے۔ جو آدمی دریافت کے اس اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے، اس کو عارف، یعنی realized person، کہا جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں بسائے جائیں گے۔ جنت دراصل دارالعارفین ہے، جہاں یہ اصحابِ معرفت خدا کی رحمت سے ابدی طور پر بسائے جائیں گے۔
معرفت محض ایک نظریاتی علم کا نام ہے۔ معرفت دراصل ایک فکری طوفان کا نام ہے۔ معرفت ایک ایسا انقلابی تجربہ ہے جو انسان کی شخصیت کی تشکیل میں سب سے بڑے عامل، یعنی factor، کی حیثیت رکھتا ہے۔ معرفت ہی کے ذریعے وہ اعلیٰ شخصیت بنتی ہے جو جنت کے اعلیٰ درجات میں بسائے جانے کے قابل ہو۔
قرآن میں جنت کو خداوند ذوالجلال کا پڑوس بتایا گیا ہے۔ ایسی لطیف اور نفیس جنت میں قیام کرنے کے قابل صرف وہ افراد ہوتے ہیں جو اس کے لیے موزوں بن سکیں۔ انسانی زبان میں یہ کہ وہ اعلیٰ درجے میں خدا شناس بن چکے ہوں، وہ خداوندِ عالم کے ہم ذوق ہوں، وہ اپنے اندر خدائی اخلاقیات رکھتے ہوں، وہ آخری حد تک no problem انسان بن چکے ہوں۔ جو قرآن کے ان الفاظ کا مصداق ہوں: رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ، سورہ نمبر 5 آیت 119۔
ایسے ہی لوگ اصحابِ معرفت ہیں۔ ایسے ہی لوگ جنت کے دارالعارفین میں عزت اور آرام کی جگہ پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ معرفت سے خالی ہوں، ان کو رد کر کے کائنات کے ابدی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے، جہاں وہ حسرت کے عذاب کو بھگتتے رہیں گے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 497۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.