Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ka tamadduni ttruf

Urdu · 4 min

جنت کا تمدنی تعارف قرآن کی سورہ محمد میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ سورہ نمبر 47، آیت 6۔ یعنی: اللہ ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انہیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی پہچان سے جنت میں داخلے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔

موجودہ دنیا میں جو لوگ جنت کو پہچان کے درجے میں پا لیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں واقعی کے طور پر جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔ جس آدمی کی معرفت اتنی گہری ہو کہ وہ جنت کا حریص بن جائے، وہ جنت کے اشتیاق میں جینے لگے۔ ایسا آدمی اسی دنیا میں جنت کا تعارف حاصل کر لیتا ہے۔ وہ دیکھنے سے پہلے جنت کو دیکھنے لگتا ہے، وہ داخلے سے پہلے جنت کا ادراک کر لیتا ہے۔

جنت کا یہ تعارف کسی آدمی کو ابتداً قرآن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن سے کسی آدمی کے اندر جنتی غور و فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد جنت کے عملی تعارف کے لیے دو خاص ذریعے ہیں: فطری تعارف اور تمدنی تعارف۔ فطری تعارف سے مراد وہ تعارف ہے جو مناظر فطرت کے ذریعے کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے۔

فطرت کے مناظر گویا کہ جنت کا بعید تعارف ہیں۔ جنت کا تمدنی تعارف پہلی بار موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے۔ جدید تہذیب نے جو ترقی یافتہ دنیا بنائی ہے، وہ گویا کہ جنت کا تمدنی تعارف ہے۔ جدید تہذیب یعنی ماڈرن سولائزیشن کی پیدا کردہ مادی سہولتیں گویا کہ جنت کی پرراہت دنیا کا ابتدائی تجربہ کرا رہی ہیں۔

مناظر فطرت کے ذریعے گویا کہ خود خالق کی طرف سے جنت کے تعارف کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر اگر معرفت کا شعور بیدار ہو چکا ہو تو وہ مناظر فطرت میں جنت کے باغوں کو دیکھے گا، اور جدید تمدنی ترقیوں کے ماحول میں جنت کا ابتدائی مشاہدہ کرے گا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 496۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.