Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shakhsiyat ki taameer

Urdu · 4 min

شخصیت کی تعمیر: قرآن کی سورہ نمبر 90 میں ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ. سورہ البلد، آیت 4۔ یعنی اللہ نے انسان کو مشقت، یعنی trial، میں پیدا کیا۔ قرآن کی اس صفت میں مشقت یعنی كَبَد کا لفظ منفی مفہوم، یعنی negative sense میں نہیں آیا ہے، بلکہ وہ مثبت مفہوم، یعنی positive sense میں آیا ہے۔

اس اعتبار سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس سے مراد جدوجہد، یعنی struggle ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں انسان ایسی حالت میں رہتا ہے کہ اس کو زندگی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ وہ سخت محنت کے کورس سے گزرتا ہے۔ یہ انسانی شخصیت کی مثبت تعمیر کے لیے ضروری ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سہولت نہیں، بلکہ کوشش؛ آسانی نہیں، بلکہ مشکل وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ It is not ease but effort; not facility but difficulty than make men. انسان ابتدائی طور پر خام لوہا، یعنی ore، کے مانند ہے۔ لوہے سے مشین بنتی ہے، لیکن اس کے لیے لمبا عمل، یعنی process، درکار ہوتا ہے۔

خام لوہے کو آگ کی بھٹی سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ steel بنتا ہے۔ پھر مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد وہ مشین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔

انسان امکانی طور پر اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن اپنے فطری امکانات کو واقعہ بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے سخت مراحل سے گزرے۔ انہی مراحل کے درمیان اس کا ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو پختگی، یعنی maturity، کہا جاتا ہے۔ زندگی کے سخت مراحل سے گزرے بغیر کوئی شخص اعلیٰ انسان نہیں بنتا۔

اس دنیا میں ہر مشکل ایک challenge ہے۔ یہ دراصل challenge ہی ہے جس کا سامنا کرنے کے بعد انسان اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 494۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.