سفارش نہیں، استحقاق۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں بہت سی ایسی موضوع روایتیں رائج ہوئیں جو یہ بتاتی تھیں کہ جنت میں داخلے کا معاملہ سفارش یعنی recommendation پر مبنی ہے، نہ کہ استحقاق یعنی merit پر۔ مثلاً یہ کہ جس گھر میں ایک حافظ ہو، اس کی سفارش پر اس کے خاندان کے بہت سے لوگ جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ اسی طرح پیغمبر کے بارے میں بہت سی موضوع روایتیں رائج ہوئیں، مثلاً "الصالح لله والطالح لي" یعنی نیک خدا کے لیے ہے اور بد میرے لیے۔
مگر یہ تمام روایتیں قطعی طور پر بے بنیاد ہیں؛ اسلام میں ان کی کوئی اصل نہیں، it has no basis in fact. حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا مستحقینِ جنت کے انتخاب یعنی selection کی دنیا ہے۔ جنت میں صرف انہی لوگوں کو داخلہ ملے گا جنہوں نے موجودہ دنیا میں اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کیا ہو۔ قرآن کی سورہ نمبر 53 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے اس نے دنیا کی زندگی میں کوشش کی، سورہ نمبر 53 آیت 29۔
اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کسی آدمی کے لیے نہ خرید و فروخت کام آئے گی اور نہ دوستی، اور نہ سفارش، سورہ نمبر 2 آیت 254۔ سفارش جیسی چیزوں کو جنت میں داخلے کا ذریعہ سمجھنا جنت کی تصغیر یعنی underestimation ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام انسانوں کی زندگی کا اعمال نامہ یعنی record تیار کیا جا رہا ہے۔ جنت ایک اعلیٰ ترین مقام ہے، اور موجودہ دنیا کے record کی بنیاد پر اعلیٰ ترین انسانوں کو وہاں آباد کرنے کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
قرآن کے مطابق جنت وہ جگہ ہے جو خدائے برتر کے پڑوس میں بنے گی، اور جہاں سچے لوگ سچائی کی دنیا میں ابدی جگہ پائیں گے، سورہ نمبر 54 آیت 55۔ جنت خدا کے پڑوس، سورہ نمبر 66 آیت 11 میں رہنے کا نام ہے۔ یہ تصور مضحکہ خیز حد تک بے اصل ہے کہ خدائے برتر کے پڑوس میں داخلہ کسی کو محض انسانی سفارش کی بنیاد پر حاصل ہو جائے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 493۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.