Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Iateraaf-e-ijz

Urdu · 4 min

اعترافِ عجز: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قدیم عرب میں ایک شخص پیدا ہوا، اس کا نام عبداللہ بن جدعان تھا۔ وہ نہایت شریف، یعنی نوبل، اور سخی یعنی جنرس آدمی تھا۔ وہ کثرت سے لوگوں کو کھلاتا تھا اور لوگوں کی مدد کرتا تھا۔ عبداللہ بن جدعان کے بارے میں ایک روایت صحیح بخاری میں آئی ہے، جو کہ حسبِ ذیل ہے: عن عائشة قالت: قلتُ يا رسول الله، إن ابنَ جدعان كان في الجاهلية يطعم المسكين ويصل الرحم، فهل ذلك نافع؟

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، إنه لم يقل يومًا: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين. صحیح البخاری، رحمہ الحدیث 315۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ: "اے اللہ کے رسول، عبداللہ بن جدعان لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور مہمانوں کی عزت کرتا تھا۔ کیا اس کا یہ عمل قیامت کے دن اس کو فائدہ پہنچائے گا؟

" آپ نے فرمایا کہ نہیں، کیونکہ اس نے کسی دن یہ نہ کہا کہ: "اے میرے رب، جزا یعنی قیامت کے دن میرے گناہ کو بخش دے۔ " یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ کیا ہے؟ اللہ کی یہ مطلوب چیز اعتراف یعنی acknowledgement ہے۔ بندہ جب اپنی بندگی اور خدا کی خدائی کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر شدید طور پر اپنی عاجزی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔

خدا کی عظمت اور کمال کے سامنے اس کو اپنا وجود سراپا تقصیر نظر آنے لگتا ہے۔ یہ عارفانہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے آگے گر پڑے، وہ خدا سے رحمت اور بخشش کی التجا کرنے لگے۔ "خدایا مجھے بخش دے" عجز کا کلمہ ہے، اور عجز کا کلمہ ہی جنت کی آخری قیمت ہے۔ جس آدمی کے پاس نہ عمل ہو اور نہ اعترافِ بے عملی، تو اس کو جنت میں داخلہ آخر کس بنیاد پر دیا جائے گا؟

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 482۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.