Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ki qeamat

Urdu · 4 min

جنت کی قیمت؟ جنت خدا کی بنائی ہوئی ایک انوکھی دنیا ہے۔ جنت میں اعلیٰ معیار کی حد تک ہر قسم کی راحت اور خوشی موجود ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہر قسم کا فلفلمنٹ ہمیشہ کے لیے حاصل ہوگا۔

سورہ نمبر 41، آیت 31۔ جنت کی یہ انوکھی دنیا کس کو ملے گی؟ جنت کی یہ دنیا موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس عورت یا مرد کو ملے گی جو اس کی قیمت ادا کرے۔ جنت اس کے لیے ہے جو حقیقی معنوں میں ربانی انسان یا خدا والا انسان بن جائے۔

جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے معرفت کی سطح پر خدا سے قریب ہو جائے۔ جنت خدا کے پڑوس کا نام ہے۔ آخرت کی دنیا میں خدا کا پڑوس صرف اس شخص کو ملے گا جو آخرت سے پہلے کی دنیا میں خدا کے پڑوس میں جینے لگے۔ انسان اپنے آپ کو ایک پیدا کیے ہوئے انسان اپنے آپ کو ایک پیدا کیے جانے والی مخلوق کی صورت میں دیکھتا ہے۔

خدا کو اسے لم یلد ولم یولد کی صورت میں دریافت، یعنی ڈسکور کرنا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان دیکھ کر چیزوں کے اوپر یقین کرتا ہے۔ خدا کے اوپر اس کو دیکھے بغیر یقین کرنا ہے۔ انسان مال اور اولاد جیسی چیزوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔

اس کو خدا کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا ہے جبکہ وہ سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے لگے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرنے لگے۔ انسان آج کی چیزوں میں جیتا ہے اور وہ آج کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ جنت اس انسان کے لیے ہے جو آج کی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے اور صرف ایک خدا کو اپنا سپریم کنسن بنا لے۔ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ بھرپور دلچسپی کا تعلق اپنے لوگوں سے رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ اس کا تعلق صرف رسمی اور ظاہری سطح پر ہوتا ہے۔

ایسے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔ جنت میں داخلہ صرف وہ لوگ پائیں گے جن کا حال یہ ہو جائے کہ خدا کے سوا دوسری تمام چیزوں سے ان کا تعلق صرف دنیاوی ضرورت کے طور پر ہو۔ اور دلچسپی اور قلبی لگاؤ کے اعتبار سے ان کا تعلق تمام تر خدا سے ہو جائے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 483۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.