Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taalib-e-jannat,Haarib-e-jahannam

Urdu · 4 min

"طالبِ جنت، حاربِ جہنم" ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ما رأيتُ مثلَ النارِ نامَ حاربُها" وما رأيتُ مثلَ الجنةِ نامَ طالبُها. الترمذی، کتاب الجنہ۔ حدیث میں "حاربِ نار" یعنی جہنم سے بھاگنے والا، اور "طالبِ جنت" یعنی جنت کا چاہنے والا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ اسلوب بہت بامعنی اسلوب ہے؛ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی تخلیق اس ڈھنگ پر کی گئی ہے کہ وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے حاربِ جہنم اور طالبِ جنت بنے۔

اگرچہ اپنی فطرت سے انحراف کر کے وہ اس سے مختلف انسان بن جاتا ہے۔ انسان تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتا۔ کسی بھی قسم کا دکھ انسان کے لیے آخری حد تک ناپسندیدہ چیز ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ راحت کو دل و جان سے چاہتا ہے، وہ خوشی اور لذت کا انتہائی حد تک دلدادہ ہے، چنانچہ اس کی پوری زندگی انہی دو چیزوں کے گرد گھومتی ہے: یعنی مصیبت سے اپنے آپ کو بچانا، اور دنیا کی راحت کو اپنے لیے جمع کرنا۔

مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ تکلیف اور مصیبت سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچا لے، اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ راحت اور خوشی کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے حاصل کر لے۔ آدمی ساری زندگی اسی کی دوڑ دھوپ میں لگا رہتا ہے، مگر آخر کار اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ مصیبتوں سے محفوظ زندگی حاصل کرتا ہے اور نہ وہ آرام و راحت کی دنیا اپنے لیے بنا پاتا ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ جذبہ ہے، اور دوسری طرف موجودہ دنیا میں اس کا ناقابلِ حصول ہونا۔ ان دونوں باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جذبے کا اصل رخ آخرت کی طرف تھا، مگر انسان نے انحراف کر کے اس کا رخ دنیا کی طرف موڑ دیا۔

انسان کی فطرت ہر لمحہ پکار رہی ہے کہ اے انسان! تو حاربِ جہنم اور طالبِ جنت بن۔ کامیاب وہ ہے جو اس آواز کو سن کر اس کی پیروی کرے۔ ناکام وہ ہے جو اس آواز کو نہ سنے، اور آخر کار وہ ابدی حسرت اور مایوسی کے گڑھے میں جا گرے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 481۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.