Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Firdaus ka taalib

Urdu · 4 min

فردوس کا طالب حضرت عبادہ بن الصامت سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فِي الْجَنَّةِ مِئَةُ دَرْجَتِينَ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرْجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرْجَةٌ مِنْهَا تُفَجِّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الْأَرْبَعَةِ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» رواه ترمذی، رقم الحدیث 2471۔ یعنی جنت کے 100 درجے ہیں، ہر دو درجے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ، اور فردوس جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے، اس سے جنت کے چار چشمے جاری ہوتے ہیں، اور اس کے اوپر خدا کا عرش ہے، پس جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو تم اس سے فردوس کا سوال کرو۔ اس حدیث رسول میں جنت کا سوال کرنے کا مطلب صرف جنت کے لیے لفظی دعا کرنا نہیں ہے، اس حدیث میں جنت کا سوال کرنے سے مراد جنت کا طالب بننا ہے، انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ ترین چیز کا طالب بنتا ہے، نفسیاتی اعتبار سے انسان اعلیٰ سے کمتر چیز پر راضی نہیں ہوتا، نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو فردوس کا طالب بننے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین جنت کو پانے کے لیے تم اس کے لیے اعلیٰ ترین عمل کرنے والے بن جاؤ، تم اپنے آپ کو معرفت اور تزکیے کے اعتبار سے اعلیٰ ترین سطح پر پہنچاؤ، تاکہ تم اعلیٰ ترین جنت کے مستحق قرار پاؤ، تم اپنی شخصیت کی تعمیر ان اعلیٰ تقاضوں کے مطابق کرو جو کہ اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے مطلوب ہیں، تم عاملِ فردوس بن کر اپنے بارے میں طالبِ فردوس کا ثبوت دو۔ اس حدیث میں بظاہر اللہ سے فردوس کا سائل بننے کا ذکر ہے، لیکن بااعتبارِ حقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ تم فردوس کی نسبت سے اس کے عامل بن جاؤ، تاکہ تم اس خوش نصیب گروہ میں شامل ہو جاؤ جس کو آخرت میں جنت الفردوس میں بسایا جائے، یہ جنت الفردوس خداوند عالم کے پڑوس کا دوسرا نام ہے، فردوس کے لیے اعلیٰ عمل یہ ہے کہ جنت کے سوا کوئی اور چیز آدمی کے مطلوب کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 477۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.