جنت اور جہنم، جنت اور جہنم کے بارے میں ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن ابی داؤد کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لما خلق الله الجنة قال لجبرئيل: اذهب فانظر إليها" فذهب فنظر إليها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها. ثم جاء فقال: "ايرب، وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها" ثم حفّها بالمكاره. ثم قال: "يا جبريل، اذهب فانظر إليها" فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال: "ايرب، وعزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد" قال: "فلما خلق الله النار قال: يا جبريل، اذهب فانظر إليها" فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال: "ايرب، وعزتك لا يسمع بها أحد فيدخلها" فحفّها بالشهوات ثم قال: "يا جبريل، اذهب فانظر إليها" فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال: "ايرب، وعزتك لقد خشيت أن لا يبقى أحد إلا دخلها" سنن الترمذی رحمہ الحدیث 2560 سنن ابی داؤد رحمہ الحدیث 4744 سنن النسائی رحمہ الحدیث 3763 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے کہا: جاؤ اور جنت کو دیکھو" پھر جبرائیل گئے اور انہوں نے جنت کو دیکھا اور جنت میں انسان کے لیے جو نعمتیں مہیا کی گئی ہیں ان کا مشاہدہ کیا پھر جبرائیل واپس آئے اور کہا کہ "اے میرے رب!
تیرے عزت و جلال کی قسم، جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا وہ ضرور اس میں داخل ہوگا" پھر اللہ نے جنت کو ناخوشگوار چیزوں سے ڈھانک دیا پھر کہا کہ "اے جبرائیل! جاؤ اور اس کو دیکھو" جبرائیل گئے اور انہوں نے جنت کو دیکھا پھر جبرائیل واپس آئے اور کہا کہ "اے میرے رب! تیرے عزت و جلال کی قسم، مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا" پھر آپ نے فرمایا کہ "جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو کہا کہ اے جبرائیل! جاؤ اور جہنم کو دیکھو" جبرائیل گئے اور انہوں نے جہنم کو دیکھا پھر جبرائیل واپس آئے اور انہوں نے کہا کہ "اے میرے رب!
تیرے عزت و جلال کی قسم، جو شخص بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اتنا زیادہ خوفزدہ ہوگا کہ وہ اس میں کبھی داخل نہیں ہوگا" پھر اللہ نے جہنم کو شہوات سے ڈھانک دیا پھر اللہ نے کہا کہ "اے جبرائیل! جاؤ اور جہنم کو دیکھو" جبرائیل گئے اور انہوں نے جہنم کو دیکھا پھر جبرائیل واپس آئے اور انہوں نے کہا کہ "اے میرے رب! تیرے عزت و جلال کی قسم، مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو جائے" جنت اور جہنم کو لوگ اگر ان کی اصل صورت میں دیکھ لیں تو ہر آدمی جنت کا شایخ بن جائے اور ہر آدمی جہنم سے بھاگنے لگے لیکن موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے اس آزمائش کی بنا پر ایسا ہے کہ جنت کا راستہ ناخوشگوار چیزوں سے ہو کر گزرتا ہے اس کے برعکس جہنم کا راستہ ہر طرف خوشگوار چیزوں سے بھرا ہوا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنت میں داخلے کا مستحق بننے کے لیے آدمی کو اپنی خواہشات یعنی ڈیزائرز پر روک لگانا پڑتا ہے اس کے برعکس جہنم کا معاملہ یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں پر بے روک ٹوک چلتا رہے تو آخر کار وہ جہاں پہنچے گا وہ جہنم کا گڑھا ہوگا اپنی خواہشوں پر روک لگانے سے آدمی کے اندر وہ مزکہ شخصیت یعنی پیوریفائیڈ پرسنیلٹی بنتی ہے جو جنت میں داخلے کی مستحق قرار پائے اس کے برعکس اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے سے آدمی کے اندر وہ غیر مزکہ شخصیت بنتی ہے جس کا ٹھکانہ صرف جہنم ہو یہی بات قرآن کی سورہ الشمس میں اس طرح کہی گئی ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّيهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا سورہ نمبر 91 آیت 9 تا 10 جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اوپر مسلسل نگراں بنا ہوا ہو وہ اپنا راستہ گہری سوچ کے تحت متعین کرے اس کے برعکس جو شخص بے قید زندگی گزارے اس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ بظاہر خوشیوں میں جیتا ہوا آخر کار ایک ایسی دنیا میں پہنچے گا جہاں ہر قسم کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے اس سے چھن چکی ہوں گی آخرت کی جنت اس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو بے رغبت بنا لے اور آخرت کی جہنم اس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں میں گم رہے یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 478.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.