Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Insan aur jannat

Urdu · 3 min

انسان اور جنت۔ حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: «لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَىٰ، وَشَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ». مسند احمد، رقم الحدیث 22226۔ یعنی تم ضرور جنت میں داخل ہو گے، سوائے اس کے جس نے انکار کیا اور وہ اللہ سے بھاگا، جیسے اونٹ بدک کر بھاگتا ہے۔

اللہ نے انسان کو اصلًا جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان جیسی مکرم مخلوق کا مقام صرف جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور جنت، دونوں ایک دوسرے کا مثنی، یعنی کاؤنٹر پارٹ ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔

اللہ نے جنت میں داخلے کے لیے جو شرط مقرر کی ہے، وہ انتہائی حد تک قابلِ عمل ہے۔ وہ کسی بھی درجے میں انسان کے لیے ناقابلِ عمل نہیں۔ وہ شرط یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جس فطری حالت پر پیدا کیا ہے، اسی فطری حالت پر وہ جیے، اور پھر اسی فطری حالت کے ساتھ وہ اللہ تک پہنچ جائے۔ یعنی «إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ».

جنت میں داخلے کی واحد شرط یہ ہے کہ آدمی خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت پر قائم ہو۔ وہ خدا کی فطرت سے انحراف نہ کرے۔ یہ خدائی فطرت ہر انسان کو الہام کر دی گئی ہے۔ سورہ نمبر 91، آیت 8۔

اگر آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے، تو وہ یقینی طور پر اپنی اس فطرت کو پہچان لے گا۔ ہر انسان کے اندر ضمیر، یعنی کانشینس، موجود ہے۔ یہ ضمیر اسی خدائی فطرت کی ایک داخلی علامت ہے۔ خدا کے پیغمبر اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو اس فطرت سے باخبر کریں، تاکہ جو چیز لاشعور کی سطح پر انسان کے اندر موجود ہے، اس کو وہ شعور کی سطح پر دریافت کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔ اس میں استثنا، یعنی ایکسیپشن، صرف اس شخص کا ہے جو خود ہی اپنے آپ کو بھٹکا کر جنت کے سوا کسی اور منزل کا مسافر بن جائے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 476۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.