اہلِ جنت کون؟ صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ایک لمبی حدیث آئی ہے، اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہنم میں جانے والے زیادہ تر متکبر ہوں گے، اور جنت میں جانے والے زیادہ ضعفہ ہوں گے۔ "تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: أُوْ سِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ" "وَقَالَتِ الْجَنَّةُ مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا زُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَتُهُمْ" صحیح البخاری، رقم الحدیث 4850۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، اس میں دراصل انسانی تاریخ کے ایک تجربے کو بیان کیا گیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انسانوں کو "انسانِ قوی" کی حیثیت سے پیدا کیا، یعنی ایسے لوگ جو اپنے ذہن اور اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اعلیٰ شخصیت کے مالک تھے، مگر اسی کے ساتھ ان کو امتحانی مصلحت کی بنا پر آزادی حاصل تھی۔ اپنی آرزوؤں کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہ سرکش اور متکبر بن گئے۔ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیا۔ اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو ضعیف انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، ان کو بھی امتحانی مصلحت کی بنا پر آزادی حاصل تھی، لیکن اپنے فطری ضعف کے باعث وہ متواضع، یعنی modest، بن گئے۔
اپنے ضعف کی تلافی کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والے بن گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ان کے لیے عملاً اس کے سوا کوئی اور انتخاب، یعنی choice، ممکن نہ تھا۔ اس طرح ضعفہ کے اندر وہ صفات پیدا ہوئیں جو انہیں جنت میں داخلے کے قابل بنانے والی تھیں۔ تاہم اس میں استثنا بھی ممکن ہے۔
مثلاً حضرت عمر فاروق انتہائی قوی انسان کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کے ایمان نے ان کو انتہائی متواضع انسان بنا دیا۔ اسی طرح ایسے افراد ہو سکتے ہیں جو جسمانی اعتبار سے آخری حد تک ضعیف ہوں، لیکن ذہن کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ان کو آخری حد تک قوی بنا دے، تاکہ ضعف کے باوجود اعلیٰ معرفت کا حصول ان کے لیے ممکن ہو جائے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 475۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.