Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Najaat-e-aakhirat

Urdu · 4 min

نجاتِ آخرت: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: «يا فاطمة، أنقذي نفسك من النار، فإني لا أملك لكم من الله شيئًا». صحیح مسلم، رقم الحدیث 522۔ یعنی: اے فاطمہ، اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، کیونکہ میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اسی طرح حضرت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ کسی شخص کا کوئی عمل اس کو جنت میں نہیں لے جائے گا، حتیٰ کہ مجھے بھی نہیں۔

میرے لیے بھی صرف اللہ کی مغفرت اور رحمت سے جنت میں پہنچنا ممکن ہوگا۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث 4850۔ آخرت میں جنت کا ملنا کسی انسان کے لیے آخری کامیابی کا معاملہ ہوگا۔ یہ عظیم واقعہ صرف خدا کے فیصلے کے تحت انجام پائے گا۔

جنت میں داخلہ کوئی سادہ معاملہ نہیں؛ یہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا اظہار ہے۔ جنت صرف معترفین کے لیے ہے، یعنی ان لوگوں کے لیے جو کامل اعتراف کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ یہ کامل اعتراف حقیقی اعتراف ہوگا، نہ کہ صرف لفظی اعتراف۔ اعترافِ کامل کا یہ احساس کسی انسان کے اندر صرف اس وقت پیدا ہوگا جب وہ فی الواقع یہ محسوس کرے کہ جنت مجھے صرف فضلِ خداوندی کی بنا پر مل سکتی ہے۔

جو یہ کہہ سکے کہ خدایا، میں کامل طور پر غیر مستحق تھا، یہ صرف تیری غیر معمولی عنایت ہے کہ تو نے میرے عدمِ استحقاق کے باوجود محض اپنے فضل سے مجھے جنت دے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی عمل، یا تمام انسانوں کا مجموعی عمل بھی، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ جو آدمی جنت کو اس طرح دریافت کر لے کہ جنت کی ابدی نعمتوں کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو کامل طور پر غیر مستحق سمجھنے لگے، وہی جنت میں داخل ہوگا۔ انسان کا کوئی عمل جنت میں داخلے کا ٹکٹ نہیں بن سکتا۔

جنت میں داخلے کا ٹکٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے غیر مستحق ہونے کو دریافت کر لے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 474۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.