جنت کی طلب: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما رأيت مثل الجنةِ نام طالبها». الترمذی، رقم الحدیث 2601۔ یعنی میں نے نہیں دیکھا کہ جنت جیسی چیز کے لیے اس کے طالب سو گئے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جنت بے حد قیمتی چیز ہے، اس اعتبار سے ہر انسان کو اس کا طالب بننا چاہیے۔
لیکن عجیب بات ہے کہ لوگ اس کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اپنی اندرونی طلب کے تحت ہر آدمی اپنی مفروضہ جنت کے لیے دوڑ رہا ہے۔ کوئی اپنی اولاد میں اس کو تلاش کر رہا ہے، اور کوئی اپنے کاروبار میں۔ کوئی عہدے میں اس کو تلاش کر رہا ہے، اور کوئی شہرت میں۔
کوئی دولت میں اس کو تلاش کر رہا ہے، اور کوئی اقتدار میں۔ کوئی اس کو منبر پر تلاش کر رہا ہے، اور کوئی اسٹیج پر۔ لیکن ہر ایک اپنی تلاش میں ناکام ہے۔ کیونکہ جنت دراصل آخرت میں ہے۔
موجودہ دنیا میں وہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ آدمی کے اندر فطری طور پر جو طلب ہے، وہ جنت کی طلب ہے۔ اس سے مراد وہ جنت ہے جو کسی انسان کو آخرت میں ملے گی۔ لیکن انسان اپنی طلب کو دنیا کی چیزوں کے حصول میں لگا دیتا ہے۔
وہ جنت کے بجائے غیر جنت کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی انسان کی اصل محرومی ہے۔ جنت وہ آئیڈیل جگہ ہے جہاں انسان کو پورے معنوں میں فلفلمنٹ حاصل ہوگا۔ لیکن اس جنت کا ملنا موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن نہیں۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کی مطلوب جنت جہاں واقع ہے، وہاں وہ اس کو پانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور جہاں ان کی مطلوب جنت سرے سے موجود ہی نہیں، وہاں وہ اپنا پورا وقت اور اپنی پوری توانائی لگا کر اس کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی نادانی ہے جس میں تمام عورت اور تمام مرد مبتلا ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کے مطابق اس معاملے میں لوگوں کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اپنی پیاس بجھانے کے لیے سراب کی طرف دوڑے۔
لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو وہ صرف یہ جانے کہ اس کا مطلوب پانی وہاں موجود ہی نہیں۔ سورہ نمبر 24، آیت 39۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 473۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.