جنت کی قیمت ایک روایت معمولی لفظی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت میں ایک جہنمی شخص کو جہنم سے نکالا جائے گا، اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے انجام کو کیسے پایا۔ وہ شخص کہے گا کہ بہت برا انجام۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین کے برابر سونا ہو تو تم اس سونے کو دے کر اس عذاب سے نجات حاصل کرنا چاہو گے؟
وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر اس سے کہا جائے گا قد كنت سئلت ما هو أيسر من ذلك. صحیح البخاری، رقم الحدیث 6538۔ یعنی دنیا میں تم سے اس سے بہت کم کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر تم نے اس کو پورا نہیں کیا۔
اس حدیث میں "أيسر" یعنی کم سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد اعتراف ہے: اگر انسان سے جنت کی قیمت کے طور پر سونا مانگا جائے تو وہ جنت کی مادی قیمت ہوگا، لیکن انسان سے اس طرح کی کوئی مادی قیمت، یعنی مٹیریل پرائس، نہیں مانگی گئی۔ انسان سے جو کچھ مانگا گیا وہ صرف اعتراف، یعنی acknowledgement تھا۔ مگر انسان غیر اللہ میں اتنا زیادہ مشغول رہا کہ وہ اعتراف کی یہ قیمت ادا نہ کر سکا۔
اعتراف کیا ہے؟ اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ہمیشہ دریافت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ایک انسان گہرے غور و فکر سے کام لیتا ہے تو اس پر ربانی حقیقتیں منکشف ہونے لگتی ہیں۔ وہ ایک طرف اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ تخلیق الہی کی حقیقتوں کو دریافت کرتا ہے۔
اس کو جنت اور جہنم کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ یہ دریافتیں اس کے ذہن میں ایک فطری بھونچال پیدا کر دیتی ہیں۔ اس شعور اور اس کیفیت کے ساتھ کسی کی زبان پر اعترافِ خداوندی کا جو کلمہ جاری ہو، وہی اعتراف اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق پیدا کرے گا۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 472۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.