Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taalib-e-dunya,Taalib-e-aakhirat.

Urdu · 4 min

طالبِ دنیا، طالبِ آخرت؛ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البیہقی کے الفاظ یہ ہیں: إن أخوف ما أتخوف على أمتي الهوى وطول الأمل. فأما الهوى فيصد عن الحق، وأما طول الأمل فينسي الآخرة. وهذه الدنيا مرتحلة ذاهبة، وهذه الآخرة مرتحلة قادمة.

ولكل واحدة منهما بنون. فإن استطعتم ألا تكونوا من بني الدنيا فافعلوا، فإنكم اليوم في دار العمل ولا حساب، وأنتم غدًا في دار الآخرة ولا عمل. شعب الإیمان، رقم الحدیث 10132۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے زیادہ ڈر کی بات جس کا مجھے اپنی امت کے بارے میں اندیشہ ہے، وہ خواہش اور لمبی آرزوئیں ہیں۔

خواہش آدمی کو حق سے روک دیتی ہے، اور لمبی آرزوئیں انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہیں۔ یہ دنیا گزرنے والی ہے اور جانے والی ہے، اور آخرت چل رہی ہے اور آنے والی ہے، اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم اپنے آپ کو طالبِ دنیا ہونے سے بچاؤ، کیونکہ آج تم ایک ایسی دنیا میں ہو جہاں عمل ہے لیکن حساب نہیں، اور کل تم آخرت کی دنیا میں ہو گے جہاں حساب ہے مگر عمل نہیں۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کے دو دور ہیں: موت سے پہلے کا دور اور موت کے بعد کا دور۔

موت سے پہلے کے دور میں تیاری ہے مگر انجام نہیں، اور موت کے بعد کے دور میں انجام ہے مگر تیاری نہیں۔ انسانی زندگی کے بارے میں اس حقیقت کو جاننا ہی سب سے بڑا علم ہے، اور سب سے بڑی دانشمندی۔ تیاری کے بارے میں بنیادی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خواہشوں سے بچائے، جو کہ آدمی کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے والی ہیں۔ اس اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں: طالبِ دنیا اور طالبِ آخرت۔

نادان وہ ہے جو طالبِ دنیا بنے، اور دانشمند وہ ہے جو طالبِ آخرت بنے۔ طالبِ دنیا کے لیے ابدی ناکامی ہے، اور طالبِ آخرت کے لیے ابدی کامیابی۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 471۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.