Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Hirs-e-jannat,Khauf-e-jahannam.

Urdu · 4 min

حرصِ جنت، خوفِ جہنم۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من سأل الله الجنة ثلاث مرات قال الجنة: اللهم أدخله الجنة"، ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار: "اللهم أجره من النار". الترمذی، رقم الحدیث 2572۔

أخرجه أيضاً النسائي، وابن ماجة، وابن حبان في صحيحه والحاکم. یعنی جس نے اللہ سے جنت مانگی تین بار، جنت کہے گی کہ اے اللہ تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔ اور جس شخص نے جہنم سے پناہ مانگی تین بار، جہنم کہے گی کہ اے اللہ تو اس کو جہنم سے پناہ دے دے۔ اس حدیثِ رسول میں تین بار سے مراد تین گنتی نہیں ہے، بلکہ تین موقع یعنی occasion ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص گنتی کے اعتبار سے ان الفاظ کو تین بار بول دے، وہ اس انعام کا مستحق بن جائے گا۔ اس سے مراد دراصل وہ انسان ہے جس نے جنت اور جہنم کو دریافت کیا۔ جنت اور جہنم کی سوچ جس کے تفکیری عمل یعنی thinking process میں شامل ہو گئی، جو جنت کا سب سے زیادہ حریص بن گیا اور جہنم سے سب سے زیادہ ڈرنے لگا۔ بڑھے ہوئے شعور کی بنا پر جس کا یہ حال ہو گیا کہ وہ سوچنے لگا کہ اگر جنت نہ ملی تو میرا کیا حال ہوگا، اور اگر مجھ کو جہنم میں ڈال دیا گیا تو میں کیسے اس کا تحمل کروں گا۔

پھر اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرشتوں کے ریکارڈ میں کم از کم تین بار یہ واقعہ درج ہوا کہ وہ جنت اور جہنم کی یاد میں تڑپ رہا ہے۔ اور اپنی تنہائیوں میں خدا کو پکارتے ہوئے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ خدایا تو مجھ کو اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن کو تو جنت کا انعام عطا فرمائے گا۔ خدایا تو مجھ کو اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن کو تو جہنم کی آگ سے نجات دے گا۔ جس انسان کے اوپر کم از کم تین بار یہ طوفانی تجربہ گزرا، وہ مذکورہ حدیثِ رسول کا مصداق قرار پائے گا۔

اس حدیثِ رسول میں دراصل ایک حقیقتِ واقعے کو بیان کیا گیا ہے، نہ کہ کسی قسم کی لفظی گنتی کو۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 470۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.