سب سے بڑی خوشی ایک روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ صحیحین میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله تعالى يقول لأهل الجنة: يا أهل الجنة، فيقولون: لبيك ربنا وسعديك، والخير كله في يديك." فيقول: هل رضيتم؟ فيقولون: وما لنا لا نرضى، يا رب، وقد أعطيتنا ما لم تعطِ أحدًا من خلقك. فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك؟
فيقولون: يا رب، وأي شيء أفضل من ذلك؟ فيقول: أحلّ عليكم رضواني، فلا أسخط عليكم بعده أبدًا. صحیح مسلم، رقم الحدیث 7318۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اہل جنت سے کہے گا کہ اے اہل جنت!
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب، لبیک وسعدیک، والخير كله في يديك. اللہ تعالی فرمائے گا: کیا تم راضی ہو؟ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کیوں ناراضی ہوں، حالانکہ تو نے ہم کو وہ چیز عطا فرمائی جو تو نے مخلوقات میں سے کسی دوسرے کو نہیں دی؟ اللہ تعالی فرمائے گا: کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ افضل چیز نہ دوں؟
وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے؟ اللہ فرمائے گا: میں تمہارے لیے اپنی رضا کو واجب کرتا ہوں۔ اس کے بعد اب میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ جنت بلاشبہ تمام نعمتوں کا مجموعہ ہے۔
جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں اور تمنائیں کامل درجے میں پوری ہوں گی۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ یہ محسوس کریں گے کہ انہیں تمام مسرتیں اپنی حقیقی صورت میں حاصل ہو گئی ہیں۔ لیکن امکانی طور پر ایک اندیشہ ان کے لیے پھر بھی موجود رہے گا، وہ یہ کہ جنت ان کو اللہ کے عطیے کے طور پر ملی ہے، وہ خود اس کے خالق نہیں ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو جنت کو ان سے چھین بھی سکتا ہے۔
مذکورہ حدیث اسی اندیشے کا جواب ہے، جب خود اللہ تعالی کی طرف سے اس کی ابدی رضا کا اعلان کر دیا جائے گا، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت اب ہمیشہ کے لیے ان کی قیام گاہ بن چکی ہے۔ وہ ان سے کبھی چھینی جانے والی نہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی خوشی ہوگی جو اہل جنت کو حاصل ہوگی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 469۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.