← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Maqsad-e-taqleeq.
Urdu · 8 min
مقصدِ تخلیق قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصدِ تخلیق کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ سورہ نمبر 51، آیت 56۔ اس آیت میں "عبادت" سے مراد معرفت ہے، یعنی انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت انسان کو کیسے حاصل ہوگی؟ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ انسان کو ایسا دماغ دیا جو لامحدود طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری طرف، اس کو ایک ایسی کائنات میں پیدا کیا گیا جو خدا کی صفات کا مظہر ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز میں اللہ کی معرفت کی غذا موجود ہے۔ انسان، پیغمبر کی رہنمائی کے تحت غور کر کے، تخلیقاتِ الٰہی میں اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ مقصدِ تخلیق عملاً پورا نہ ہو سکا۔
انسان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے دماغ کا بہت کم حصہ استعمال کر کے مر جاتا ہے۔ گویا کہ ہر انسان پیدا ہو کر اس طرح اس دنیا سے چلا جاتا ہے کہ اس کا دماغ غیر استعمال شدہ، یعنی unutilized، رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام درختوں سے قلم بنایا جائے، اور دنیا کے تمام سمندر اور سمندر سیاہی بنا دیے جائیں، اور کلماتِ الٰہی کو لکھنا شروع کیا جائے، تو ان کا بیان مکمل نہیں ہوگا۔ یہ کلمات دراصل کلماتِ معرفت ہیں۔
اس طرح عملاً یہ صورتحال ہے کہ اللہ کے کلماتِ معرفت ابھی تک غیر دریافت شدہ، یعنی undiscovered، حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب اللہ کے تخلیقی پلان میں ملتا ہے۔ اللہ کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے: موجودہ دنیا کی عارضی مدت اور آخرت کی ابدی مدت۔
جس طرح انسان اب تک اپنے دماغ کے امکانات کو استعمال نہ کر سکا، اسی طرح کائنات میں بکھرے ہوئے کلماتِ معرفت بھی اب تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا آغاز ہے، اور آخرت کی دنیا اس کی تکمیل۔ موجودہ دنیا میں ان انسانوں کا انتخاب، یعنی recruitment، کیا جا رہا ہے جو آخرت میں انجام دیے جانے والے تکمیلی عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ قیامت میں یہ ہوگا کہ نااہل افراد چھانٹ کر کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیے جائیں گے، اور جن لوگوں نے اہلیت ثابت کی ہے، ان کو منتخب کر کے اس دنیا میں داخل کر دیا جائے گا جس کا نام جنت ہے۔
اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ قیامت سے پہلے کی دنیا نہ تمام انسانی تہذیب، یعنی human civilization، کی دنیا تھی، اور قیامت کے بعد کامل خدائی تہذیب، یعنی divine civilization، کی دنیا بنے گی۔ بظاہر انسانی تہذیب کا دور اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جبکہ خدائی تہذیب بننے کا فائنل عمل شروع ہو جائے گا۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جبکہ خدائی تہذیب بننے کا فائنل عمل شروع ہو جائے۔
وہ خدائی تہذیب جو ابد تک محیط ہے۔ موجودہ انسانی تہذیب کچھ انسانوں نے اپنی سرگرمیوں کے تحت بنائی تھی۔ اسی طرح بعد کی خدائی تہذیب بھی کچھ خوش قسمت افراد بنائیں گے، جن کے ساتھ مزید تعاون کے لیے فرشتے موجود ہوں گے۔ موجودہ دنیا میں تہذیب کے بننے کا عمل مشقت، سورہ نمبر 90 آیت 4، کے دوران انجام پایا تھا۔
لیکن خدائی تہذیب کا عمل اس کے برعکس ایک پر مسرت، یعنی joyful، عمل ہوگا، جس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيهِ شُغْلٌ فَاقِهُونَ سورہ نمبر 36 آیت 55۔ قرآن میں جنت کے بارے میں یہ آیت آئی ہے کہ وَأُتُو بِهِ مُتَشَابِهَةً سورہ نمبر 2 آیت 25۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ جنت کے پھل دنیا کے پھل کے مانند ہوں گے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ جنت کے پھل دنیا کے پھل کی مانند ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سے مکمل انسانی زندگی مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح موجودہ دنیا میں کامل سرگرمی کی زندگی گزارتا ہے، اسی طرح جنت میں بھی وہ ایک کامل سرگرمی کی زندگی گزارے گا۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی سرگرمیاں غیر معیاری ماحول کے اندر انجام پاتی ہیں، اور جنت میں یہ سرگرمیاں معیاری ماحول کے اندر انجام پائیں گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو حزن، سورہ نمبر 34 آیت 35، اور قبد، سورہ نمبر 90 آیت 4، کے درمیان عمل کرنا پڑتا ہے۔
لیکن جنت کی تمام سرگرمیاں پر مسرت سرگرمیاں، یعنی joyful activities، ہوں گی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 464۔