جنتِ دنیا، جنتِ آخرت۔ قرآن کے مطابق موجودہ دنیا آخرت کی دنیا کے عین مشابہ ہے۔ سورہ نمبر 2، آیت 25 ہے۔ جو چیزیں آخرت کی دنیا میں موجود ہوں گی، وہ سب موجودہ ارضی جنت میں موجود ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ آخرت کی جنت میں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی اور موجودہ دنیا میں ہر چیز امپرفیکٹ حالت میں پائی جاتی ہے۔
اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو بقدرِ ضرورت—سورہ نمبر 14، آیت 34—دیا گیا ہے، اور آخرت کی جنت میں تمام چیزیں انسان کو بقدرِ اشتہا—سورہ نمبر 41، آیت 31—دی جائیں گی۔ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ آخرت دارالجزا ہے، اور موجودہ دنیا دارالامتحان۔ مصلحتِ امتحان کی بنا پر موجودہ دنیا میں کبد—سورہ نمبر 90، آیت 4—رکھ دیا گیا ہے، یعنی مسائل۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آخرت کی جنت ایک ایسا پھول ہے جو صرف پھول ہے؛ اس کے مقابلے میں دنیا کی جنت ایک ایسا پھول ہے جس کی شاخ میں کانٹا بھی لگا ہوا ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ پھول کو لے اور کانٹے کو نظر انداز کر دے۔ کانٹے کی موجودگی کو نظر انداز کرنا ہی یہاں کا اصل امتحان ہے۔ جو آدمی پھول کو لے اور کانٹے کو بھلا دے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ وہ شکر کے جذبات کے ساتھ اس دنیا میں زندگی گزارے گا، جو کہ خدا کا اصل مطلوب ہے۔
اس کے برعکس جو آدمی کانٹے کی موجودگی کو نظر انداز نہ کر سکے، وہ ہمیشہ شکایتوں میں جیے گا۔ وہ دنیا میں شکر کی عبادت سے محروم رہے گا، اور آخرت میں جنت میں داخلے سے محروم۔ موجودہ دنیا کو جنت کے طور پر دریافت کرنا ہی اپنے آپ کو آخرت کی جنت کا مستحق بنانا ہے۔ لیکن انسان کانٹوں کی موجودگی کو لے کر نفرت و شکایت میں پڑا رہتا ہے۔
مگر یاد رکھیے، موجودہ دنیا کا کانٹا اعراض کے لیے ہے، نہ کہ احتجاج کے لیے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں، ان کے حصے میں آخر کار جو چیز آئے گی، وہ صرف محرومی ہے، نہ کہ کوئی کامیابی۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 463۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.