اہلِ جنت کا کلمہ قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل کیے جائیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد لله الذي أذهب عن الحزن. سورہ نمبر 35 آیت 34۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ Praise be to God who has taken away all sorrow from us.
قرآن کی یہ آیت دعا کے لیے ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس دیتی ہے۔ اس دعا میں اہلِ ایمان اللہ کے ایک اسمِ اعظم کو دریافت کرتے ہیں، جس کے حوالے سے دعا کر کے وہ جنت کے مستحق بن سکیں۔ یہ اسمِ اعظم خدا کا "مذہبِ حزن" ہونا ہے، یعنی حزن، یعنی sorrow کو دور کرنے والا۔ ہر انسان کے ساتھ اس دنیا میں حزن کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، پھر فطرت کے نظام کے تحت وہ رفع ہو جاتا ہے۔
مثلاً بیماری کے بعد اچھا ہو جانا، حادثے کے بعد صحت مند ہو جانا، تکلیف کے بعد دوبارہ آرام مل جانا، ناخوشگوار تجربے کے بعد دوبارہ خوشگوار تجربہ پیش آنا وغیرہ۔ اس طرح کے تجربے کے وقت انسان گویا کہ اللہ کی ایک صفت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ اللہ کا "مذہبِ حزن" ہونا ہے۔ جب بھی ایسا تجربہ کسی انسان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے حوالے سے یہ دعا کرے کہ: اے اللہ، موت سے پہلے دنیا کی زندگی میں جس طرح تو نے میرے ساتھ اذہابِ حزن یعنی حزن کو دور کرنے کا معاملہ فرمایا، اسی طرح تو موت کے بعد آخرت کی زندگی میں میرے ساتھ اذہابِ حزن کا معاملہ فرما۔
یہ دعا کی اعلیٰ قسم ہے۔ یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ اس قسم کی دعا کا موقع اس دنیا میں ہر انسان کو بار بار ملتا رہتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا بلاشبہ سب سے بڑی دعا ہے، لیکن اسمِ اعظم کتاب میں چھپے ہوئے کسی اسم کا نام نہیں۔
اسمِ اعظم وہ ہے جس کو انسان خود دریافت کرتا ہے، اور پھر اس کے حوالے سے وہ اخبات اور انابت کے ساتھ اللہ سے دعا کرتا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 462۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.