"جنت ایک معلوم دنیا" قرآن کی سورہ محمد میں جنت اور اہلِ جنت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ سورہ نمبر 47، آیت 6۔ یعنی خدا اہلِ ایمان کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انہیں پہچان کرا دی ہے۔ گویا کہ جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی معرفت ایک باشعور انسان پیشگی طور پر آج ہی کی دنیا میں حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں جنت کی معرفت کی دو سطحیں ہیں۔
اس کی پہلی سطح یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر اپنے اندر لامحدود خواہشیں، یعنی desires، رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ محسوس کرتا ہے کہ ان خواہشوں کی تکمیل، یعنی fulfillment، موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ عقلی اعتبار سے دیکھیے تو جب خواہشیں حقیقی طور پر موجود ہیں تو ان کی تکمیل بھی حقیقی طور پر قابلِ حصول ہونا چاہیے۔ اس طرح کسی آدمی کے لیے اپنی خواہشوں، یعنی desires، کا علم گویا کہ اس کے لیے جنت کا آدھا علم ہے۔
نصف جنت کا یہ علم انسان کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ بقیہ نصف جنت بھی فطرت کے نظام میں موجود ہونا چاہیے۔ تخلیقِ خواہش اگر ممکن ہے تو بلاشبہ تکمیلِ خواہش بھی ممکن ہونا چاہیے۔ جنت کی معرفت کی دوسری قسم وہ ہے جو موجودہ سیارہ زمین کی شکل میں آدمی کے علم میں آتی ہے۔ موجودہ سیارہ زمین میں ہر قسم کے جنتی سامان موجود ہیں۔
زمین گویا کہ جنت کا ایک جزوی نمونہ ہے۔ کامل جنت کے مقابلے میں موجودہ سیارہ ارض ایک ناقص جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح یہ زمین جزوی معنوں میں جنت کی موجودگی کا ایک پیشگی تعارف ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 461۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.