Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ki pahchaan.

Urdu · 3 min

جنت کی پہچان قرآن کی سورہ محمد میں سچے اہلِ ایمان کی بابت ارشاد ہوا ہے: وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ سورہ نمبر 47، آیت 6۔ یعنی اللہ ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انہیں پہچان کرا دی ہے۔ یہاں "جنت کی پہچان" سے کیا مراد ہے، اس کا جواب قرآن کی دوسری آیت میں ملتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان جب جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں کے پھل ان کو دیے جائیں گے تو وہ کہیں گے هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلِ وَأُتُو بِهِ مُتَشَابِهَةً سورہ نمبر 2، آیت 25۔

یعنی یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو موجودہ دنیا کو جنت کی پہچان کے طور پر دریافت کریں۔ موجودہ دنیا میں مطلوب نعمتیں انسان کے لیے رکھی گئی ہیں، لیکن یہاں وہ غیر معیاری صورت میں ہیں۔ غیر معیاری نعمتوں کو دیکھ کر معیاری نعمتوں والی دنیا کو دریافت کرنا، یہی جنت کی پہچان ہے۔

اور یہی پہچان جنت کی قیمت ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا کو جنت کی پہچان کے طور پر دریافت نہ کریں، وہ عاجلہ کی محبت سورہ نمبر 75، آیت 20 میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا نظریہ یہیں اور اسی وقت، یعنی "ریٹ ہیر رائٹ ناؤ" کا نظریہ بن جاتا ہے۔ وہ کل یعنی ٹومارو کو چھوڑ کر آج یعنی ٹوڈے کے اندر اپنی ساری توجہ لگا دیتے ہیں۔

اس کے برعکس جو لوگ موجودہ غیر معیاری دنیا میں معیاری جنت کو دریافت کر لیں، ان کی زندگی کا نشانہ یہ بن جاتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر معیاری جنت کو حاصل کریں۔ موجودہ دنیا کے بجائے اگلی دنیا ان کا اصل کنسرن بن جاتا ہے۔ ان کی پوری زندگی آخرت رُوخی زندگی بن جاتی ہے۔ یہی خدا کے سچے بندے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقیقت کو دریافت کیا اور اس کو عملاً اپنی زندگی میں اختیار کر لیا۔

یہی وہ لوگ ہیں جن پر موت آئے گی تو فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ سورہ نمبر 39، آیت 73۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 460۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.