Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taalib-e-jannat baniye.

Urdu · 3 min

طالبِ جنت بنیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو احساسِ لذت، یعنی sense of pleasure، رکھتا ہے۔ وسیع کائنات میں بہت سی مخلوقات ہیں، مثلاً ستارہ، سیارہ، سورج، چاند، سمندر، درخت، حیوانات وغیرہ۔

لیکن ان میں سے کسی کو بھی احساسِ لذت کی نعمت حاصل نہیں۔ ایک طرف اللہ نے انسان کو اعلیٰ درجے میں لذت کا احساس رکھنے والی مخلوق کے طور پر بنایا ہے، اور دوسری طرف اس نے ایک انوکھی دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں وہ تمام سامانِ لذت کمال درجے میں موجود ہے، جس کا احساس لے کر انسان پیدا ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس سامانِ لذت کو نہیں پاتا جو اس کے لیے فلفلمنٹ کا ذریعہ بن سکے۔

یہی موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو طالبِ جنت بن کر رہنا ہے۔ جو شخص موجودہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ حقیقی معنوں میں طالبِ جنت بن گیا ہو، وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور اسی کو ابدی جنت میں آباد کرنے کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

جو لوگ اپنی موجودہ زندگی میں جنت کے طالب نہ بن سکیں، جن کا دل جنت کے سوا کسی اور چیز میں لگا ہوا ہو، وہ اللہ کے مطلوب انسان نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کی۔ ان کا کیس ناقدری کا کیس ہے، نہ کہ قدردانی کا کیس۔ ایسے لوگ جنت کے باغوں میں بسنے کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔

جنت کے ابدی دسترخوان پر بیٹھنے کی سعادت انہیں حاصل نہ ہوگی۔ انہوں نے موجودہ دنیا میں خدا کی جنت سے نگاہیں پھیر لی تھیں۔ آخرت میں خدا ان سے اپنی نگاہیں پھیر لے گا۔ آخرت کی دنیا میں ان کو ابدی محرومی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 459۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.