جنت کی قیمت: قرآن کی سورہ المائدہ کی آیات 83 تا 85 میں ایک گروہ کا ذکر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لایا۔ اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ پھر ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انہیں اس قول کے بدلے جنت دے گا۔ فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کو جنت صرف ان کے قول پر دے دی گئی، کیونکہ اگلی آیت میں ان کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْقَائِلِينَ بلکہ یہ فرمایا کہ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ اس سے معلوم ہوا کہ جنت سادہ معنوں میں صرف قول پر نہیں ہے، بلکہ جنت اس قول پر ہے جو حقیقی معنوں میں ایک محسن کی زبان سے نکلا ہو۔ قرآن اور حدیث میں جہاں بھی قول پر جنت کا ذکر ہے، اس سے مراد تلفظ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ قول ہے جو داخلی حقیقت کے اظہار کے طور پر کسی انسان کی زبان سے نکلے۔
مجرد تلفظ ایک منافقانہ فعل ہے۔ اس طرح کے تلفظ پر کسی کو کوئی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن جب ایسا ہو کہ ایک شخص حق کا متلاشی بنا، اس نے غور و فکر کیا، اس نے مطالعہ کیا، پھر اس پر سچائی منکشف ہوئی، اس نے سچائی کو اپنے پورے وجود کے ساتھ قبول کر لیا، پھر سچائی کے بارے میں اس کا یہ داخلی شعور الفاظ کی صورت میں اس کی زبان سے نکل پڑا، تو ایسا قول بلاشبہ صرف ایک قول نہیں ہے، بلکہ وہ سرتاپا عمل ہے، اور وہ اس قابل ہے کہ اس پر اس کے کہنے والے کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے۔ جنت ایک حقیقی انعام ہے، اور حقیقی انعام کسی کو ایک حقیقی عمل ہی کے ذریعے مل سکتا ہے۔
اس سے کمتر درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 458۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.