Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jode ka usool.

Urdu · 3 min

جوڑے کا اصول قرآن کی سورہ الزاریات میں ارشاد ہوا ہے: وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ سورہ نمبر 51، آیت 49۔ یعنی اللہ نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ جوڑا یعنی پیر کا تعلق صرف مذکر اور مؤنث سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ مثال کے طور پر انسان کو خدا نے متلاشی لذت حیوان، یعنی desire seeking animal کے طور پر پیدا کیا ہے۔

انسان کے اندر لامحدود قسم کی خواہشیں چھپی ہوئی ہیں، لیکن موجودہ زمین پر ان خواہشات کی تکمیل، یعنی fulfillment، کا سامان موجود نہیں۔ گویا یہاں طالب ہے، مگر اس کا مطلوب یہاں موجود نہیں۔ طالب کا جوڑا یعنی پیر مطلوب ہے۔ جب ساری دنیا کو جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ انسان کی فطری خواہشوں کا جوڑا کہاں ہے؟

جب ساری دنیا میں جوڑے کا اصول کارفرما ہے، تو ضرور ایسا ہونا چاہیے کہ یہاں خواہش یعنی desire کا جوڑا بھی موجود ہو۔ یہ جوڑا بلاشبہ موجود ہے، اور اسی جوڑے کا نام جنت یعنی paradise ہے۔ جنت میں تمام خواہشوں اور لذتوں کا جوڑا موجود ہے۔ جنت میں تمام فطری خواہشوں کی تکمیل، یعنی fulfillment، کا سامان اعلیٰ ترین صورت میں فراہم کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ انسان کو دعا کے لیے ایک point of reference دیتا ہے۔ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ خدایا، جب تو نے میری فطرت میں تمام خواہشیں رکھ دیں، تو اب تو ان کی تکمیل کا سامان بھی عطا فرما۔ فانی بدایونی، وفات 1940۔ اگر اس حقیقت کو جانتے تو وہ اپنے شعر کو کسی قدر تبدیلی کے ساتھ اس طرح کہتے: "اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب، جب دیا ذوقِ طلب، پھر اسے مطلوب بھی دے"۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 457۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.